ایل او سی پر پوری فوج الرٹ، سینئر صحافی نے اندر کی خبر دے دی

کشمیر کیلئے قوم 14اگست سے زیادہ جذبے سے باہر نکلی

یہ لوگ آزاد کشمیر کیلئے نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کیلئے باہر نکلے، ایل اوسی پر پوری فوج الرٹ کھڑی ہے۔سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا تبصرہ

سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ جمعے کو پوری قوم 14اگست سے زیادہ جذبے کے ساتھ باہر نکلی، یہ لوگ آزاد کشمیر کیلئے نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کیلئے باہر نکلے،ایل اوسی پر پوری فوج الرٹ کھڑی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایل اوسی پر پوری فوج الرٹ کھڑی ہے، قوم بھی الرٹ کھڑی ہے، جمعے کو پوری قوم باہر نکلی، قوم 14اگست سے زیادہ جذبے کے ساتھ باہر نکلی، عورتیں، بچے سب کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر رہے تھے۔یہ لوگ آزادکشمیر کیلئے نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کیلئے باہر نکلے ہیں۔ کرفیو اٹھتا ہے اور لوگ سڑکوں پر آتے ہیں تواس کی تیاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے واقعے کو2002ء سے ملائیں توپتا چلتا ہے وہی صورتحال ہے جب ایک وقت میں مشرقی اور مغربی سرحدیں کھول دیں ۔

افغانستان میں مذاکرات رک گئے ہیں،پاکستان پر الزام لگایا کہ ساتھ نہیں دے رہا۔جبکہ پاکستان نے بھرپور ساتھ دیا۔ ایک وقت تھا کہ امریکا کی دم کے ساتھ پہلے اسرائیل تھا اب بھارت بھی چپکا ہے۔ اسی طرح سینئر تجزیہ کار ایاز میر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے کچھ نہیں ہوا تو اب کیا ہوگا ؟ یہ مسئلہ جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل لے کر گئے تھے۔ ان قراردادوں سے کچھ نہیں ہوا تو اب سلامتی کونسل سے کیا ہوگا؟ جبکہ ابھی تک سلامتی کونسل کی طرف سے کوئی بیان تک نہیں آیا۔ سینئر تجزیہ کار ایاز میر نے کہا کہ ہمیں کشمیریوں کے اظہار یکجہتی کیلئے جمعے کے روز باہر نکلنا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر کشمیر آزاد نہیں ہوگا۔ 

جے یو آئی (ف) پنجاب کا اجلاس ،لاک ڈائون کی تیاریوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں

اجلاس میں اسلام آباد لاک ڈائون کی سیکیورٹی کیلئے دس ہزار رضا کاروں کو تیار کرنے کا فیصلہ

 

جے یو آئی (ف) پنجاب کا اجلاس ،لاک ڈائون کی تیاریوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل ..

جمعیت علمائے اسلام (ف) پنجاب نے اسلام آباد لاک ڈائون کی سیکیورٹی کیلئے دس ہزار رضا کاروں کو تیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تیاریوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں ۔مسئلہ کشمیر اور اسلام آباد لاک ڈائون کے معاملہ پر جمعیت علمائے اسلام پنجاب کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس بھور بن میں ہوا جس کی صدارت سیکرٹری جنرل جییوائی پنجاب مولانا صفی اللہ کی کی ۔اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے بعد سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا اجلاس میں مسئلہ کشمیر میں مودی کی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔اجلاس میں اسلام آباد لاک ڈاؤن کی تیاریوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ۔اسلام آباد لاک ڈاؤن کی تیاریوں کے سلسلے میں صوبائی عاملہ کے اراکین نے صوبے کے تمام اضلاع کے دوروں کا فیصلہ کیا ،اجلاس میں لاک ڈائون کیلئے انٹر پارٹی فنڈنگ کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس میں لاک ڈائون کی سیکیورٹی کیلئے دس ہزار رضا کاروں کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

”مودی کا تجزیہ غلط ثابت ہوا ہے“پاکستان کے لیے اگلا اہم مرحلہ کیا ہے؟ بتا دیا گیا

بھارت میں گروتھ کی شرح 5 فیصد گرگئی، فواد چودھری

مودی کا تجزیہ غلط ثابت ہوا ہے،80 لاکھ آبادی میں فوری تبدیلی مشکل ہے، پاکستان کیلئے اگلا اہم مرحلہ یو این جنرل اسمبلی اجلاس ہے۔وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کی گفتگو

وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجیفواد چودھری نے کہا ہے کہ بھارت میں گروتھ 5 فیصد گرگئی، مودی کا تجزیہ غلط ثابت ہوا ہے،80 لاکھ آبادی میں فوری تبدیلی مشکل ہے، پاکستان کیلئے اگلا اہم مرحلہ یو این جنرل اسمبلی اجلاس ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مودی پر بھارت میں بھی دباؤ پڑا ہے۔مودی کے خلاف بھارت میں مخالفت کا لاوا پھٹنے والا ہے۔ مودی کو مقبوضہ کشمیرسے کرفیو اٹھانے کی جرات نہیںٕ ہو رہی۔ کرفیو اٹھاتے ہی مقبوضہ کشمیر میں لاوا پھٹے گا۔ فواد چودھری نے کہا کہ مودی کا تجزیہ غلط ثابت ہوا ہے۔ 80 لاکھ آبادی میں فوری تبدیلی مشکل ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ ماہرمعیشت من موہن سنگھ نے بتایا کہ بھارت میں گروتھ 5 فیصد گر گئی ہے۔پاکستان کیلئے اگلا اہم مرحلہ یو این جنرل اسمبلی اجلاس ہے۔ وزیراعظم نڈر آدمی ہیں پاکستانیوں کے مفاد کا سوچتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مودی کے گلے پڑ گئی ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ بھارتی سیکولرازم کا حشر ہوگیا ہے۔ مودی کو مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے کی جرات نہیں ہو رہی۔ بھارت ایک سیکولر ملک نہیں ہے۔ بلکہ بھارت ایک فاشسٹ ملک بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کو انٹرنیشنل انسانی حقوق کے مسئلے کیطرح ہی پیش کرنا ہے۔ افضل گرو کے بعد سے کشمیر میں رخ تبدیل ہوا ہے۔ کشمیرمیں آج کوئی بھی مودی کا نام لیوا نہیں ہے۔ آج دہلی کی لائن دینے والے کشمیری سیاستدان بھی جیلوں میں ہیں۔ اسی طرح راہول گاندھی کو سرینگر میں آنے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ملک ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ واضح رہے گزشتہ روز بھی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی کہ کشمیری قیادت کو رہا کیا جائے اور کشمیر میں کرفیو ختم کرکے نظام زندگی بحال کیا جائے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

پاکستان کے کرنسی نوٹوں میں بڑی تبدیلی کردی گئی

پاکستان کے کرنسی نوٹوں میں بڑی تبدیلی کر دی گئی

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے دستخط سے کرنسی نوٹوں کا اجراء کر دیا گیا

بینک دولتپاکستان (اسٹیٹ بینک آف پاکستان ) کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر کے دستخط کے حامل کرنسی نوٹوں کا اجراء شروع کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے دستخط کے حامل کرنسی نوٹوں کا اجراء بینکنگ سروسز کارپوریشن کے فیلڈ دفاتر کے ذریعے سے 30 اگست سے شروع ہوا ہے۔

وہ کرنسی نوٹ جن پر ان کے پیش رو کے دستخظ ہیں بطور لیگل ٹینٹز زیرِ گردش رہیں گے، واضح رہے کہ ڈاکٹر رضا باقر آئی ایم ایف کی نوکری چھوڑ کرپاکستان خدمت کے لیے آئے ہیں، انہیں انگریزی، اُردو اور پنجابی زبانیں آتی ہیں ۔ ان کا تعلق ملتان کے قریبی علاقہ وہاڑی کے ایک گاﺅں 571 ای بی سے ہے اور یہ وہیں کے رہنے والے ہیں۔

ڈاکٹر رضا باقر پاکستان آنے سے پہلے آئی ایم ایف کے لئے مصر میں کام کر رہے تھے۔

ڈاکٹر رضا باقر اس سے قبل آئی ایم ایف کے لئے رومانیہ میں کنٹری ہیڈ تھے، ڈاکٹر رضا باقر نے کیلیفورنیا سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ رضا باقر اس سے پہلے آئی ایم ایف کی جانب سے مصر میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔ انہوں نے مصر کی معیشت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ رضا باقر کے دور میں آئی ایم ایف نے مصر کو 12ارب ڈالر کی معاشی امداد دی تھی۔

آئی ایم ایف نے یہ امداد 2016ء میں مصر کو دی جس کے بعد مصر کی معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ ہوا اور زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ گئے تھے ۔ جبکہ وفاقی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی رضا باقر کو پاکستان کا بیٹا قرار دیا تھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک اجلاس کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی خصوصی تعریف کی اور کہا کہ آئی ایم ایف کرسٹین لیگارڈ نے مجھے فون کیا اور کہا کہ رضا باقر بہترین افسر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رضا باقر کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف آئی ایم ایف حکام بھی کرتے ہیں۔

کشمیر میں جہاد کا حکم ۔۔جہادی کیمپ قائم کرنے کی ہدایات بھارت کو سبق سکھانے کیلئے کون میدان میں آگیا؟ جانئے

کشمیر میں جہاد کا حکم دیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی 

آزاد کشمیر میں جہادی کیمپس قائم کرنے کی ہدایت کی جائے۔ درخواستگزار

کشمیر میںجہاد کا حکم دینے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق شریف شبیر نامی شہری نے کشمیر میں جہاد کے حکم کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ درخواستگزار شریف شبیر نے میاں گوہر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔

درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواستگزار نے مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت حکومت کو جموں و کشمیر میں جہاد شروع کرنے کا حکم دے۔ درخواستگزار نے استدعا کی کہ آزاد کشمیر میں جہادی کیمپس قائم کرنے کی ہدایت کی جائے۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تاحال کرفیو نافذ ہے جو چوتھے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے ۔ وادی میں اس دوران صرف نقل وحمل پر ہی پابندی عائد نہیں بلکہ موبائل، نیٹ اور ٹیلی فون سروسز بھی معطل ہیں جس کے باعث وادی کا پوری دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ پانچ اگست کو مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا تھا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں بھی تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کا بل بھی پیش کیا تھا۔ راجیہ سبھا کے اجلاس کے دوران بھارتی اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید احتجاج کیا۔ خیال رہے کہ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے کشمیریوں کے بے وطن ہونے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار کشمیر میں آباد ہوجائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ فاشسٹ مودی کی منصوبہ بندی کے تحت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔

بھارت کو جواب دینے کیلئے پاکستان نے میزائل نصب کر دیے؟ دشمن کو سرپرائز دینے کی تیاری کی جا رہی ہے؟ ترجمان پاک فوج کے بیان نے ہندوستانیوں کے اوسان خطاء کر دیے

پاکستان نے بھارت کو جواب دینے کیلئے حکمت عملی طے کرلی، چیزیں نصب کر دی گئی ہیں

ترجمان پاک فوج کا ذاتی ٹوئٹر اکاونٹ سے جاری کیا گیا پیغام بھارت کیلئے وارننگ ہے، مودی غلط فہمی کا شکار ہے کہ امریکا، اسرائیل اور دیگر اس کا ساتھ دیں گے: عارف حمید بھٹی

عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو جواب دینے کیلئے حکمت عملی طے کرلی، چیزیں نصب کر دی گئی ہیں، ترجمان پاک فوج کا ذاتی ٹوئٹر اکاونٹ سے جاری کیا گیا پیغام بھارت کیلئے وارننگ ہے، مودی غلط فہمی کا شکار ہے کہ امریکا، اسرائیل اور دیگر اس کا ساتھ دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان پاک فوج کی جانب سے ان کے ذاتی ٹوئٹر اکاونٹ سے ایک ٹوئٹ کیا گیا ہے جس نے بھارتی میڈیا کے اوسان خطاء کر رکھے ہیں:

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ سب سے بہترین حکمت عملی وہ ہے جو دشمن کیلئے سرپرائز ثابت ہو۔

ترجمان پاک فوج کا یہ ٹوئٹ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان اوربھارت کی کشیدگی عروج پر ہے۔

اس حوالے سے سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہپاکستان جنگ کی صورت میں بھارت کو جواب دینے کی حکمت عملی تیار کر چکا ہے۔ چیزیں نصب کر دی گئی ہیں۔ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے 3 گنا زیادہ شدت سے جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے باعث پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر ہیں۔

بھارت کی جانب سے ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ جبکہپاکستان نے بھی جنگ کی صورت میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاک فوج اس تمام صورتحال میں مسلسل ہائی الرٹ پر ہے۔ جبکہ گزشتہ کچھ روز کے دوران لائن آف کنٹرول پر شدید نوعیت کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ بھارت کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ پاک فوج کی جانب سے بھی بھارت کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔   

پاکستان کے پاس ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار موجود ہے معروف صحافی و تجزیہ کار صابرشاکر نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دے دیا

پاکستان کے پاس ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار موجود ہے 

معروف صحافی و تجزیہ کار صابرشاکر نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دے دیا

صحافی و تجزیہ کار صابر شاکر نے اپنے حالیہ کالم میں وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق صابر شاکر نے کہا کہ ہم وزیراعظمعمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ سے عرض کریں گے کہ وہ اپنی سفارتکاری کو جارحانہ انداز میں آگے بڑھائیں اور مسلم حکمرانوں اور عالمی برادری کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بھر پور کوشش کریں۔

وزیراعظم عمران خان، جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ریٹائرڈ سینئر پارلیمنٹیرینز پر مشتمل وفود دنیا بھر کے ممالک کے دارالحکومتوں میں جائیں اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں پاکستان کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھائی گئی۔

اس لیے اس حمایت کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔

ادھرامریکہ افغانستان میں ہر صورت کامیاب بیانیے کے ساتھ نکلنا چاہتا ہے اور پاکستان افغانستان کے معاملے سے ایک معقول فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کی سول و عسکری قیادت میری دانست میں ایک مؤثر ڈیل کر سکتی ہے۔ پاکستان کو اپنی روایتی سوچ بدل کر بدلتے ہوئے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف اور صرف اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے بات کرنی چاہئیے۔

صابر شاکر کا کہنا تھا کہ افغانستان اور یہ خطہ امریکہ کے لیے بہت اہم ہے اور پاکستان اس خطے اور افغانستان کے مسئلے کا اہم کھلاڑی ہے۔ بند کمرے اور بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ دشمن کے دشمنوں سے دوستی اور دوست کے دشمنوں سے دشمنی ہر جگہ ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹ آف دی باکس ، کثیر الجہتی اورخفیہ سفارتکاری کے ذریعے اپنے کارڈ استعمال کریں تو بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل ہدف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار منظم جدوجہد ہے۔ اگر یہ جدو جہد ریاست ِپاکستان استعمال کرے تو اس سے ناقابلِ یقین حد تک مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔

بھارت کے اوسان خطاء ہوگئے، پاکستان اور چین کی جنگی طیارے ایکشن میں آگئے پاکستان، چین کی سالانہ فضائی مشقیں شاہین 8 کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، ،مشقوں کے دوران دونوں دوست ممالک کے جنگی طیارے شامل ہوں گے

بھارت کے اوسان خطاء ہوگئے، پاکستان اور چین کی جنگی طیارے ایکشن میں آگئے

پاکستان، چین کی سالانہ فضائی مشقیں شاہین 8 کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، ،مشقوں کے دوران دونوں دوست ممالک کے جنگی طیارے شامل ہوں گے

 بھارت کے اوسان خطاء ہوگئے، پاکستان اور چین کی جنگی طیارے ایکشن میں آگئے،پاکستان، چین کی سالانہ فضائی مشقیں شاہین 8 کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا، ،مشقوں کے دوران دونوں دوست ممالک کے جنگی طیارے شامل ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق دوست اور برادر ممالک پاکستان اور چین کی تاریخی فضائی مشقوں کا آغاز ہوگیا ہے۔

شاہین نامی فضائی مشقیں پاک فضائیہ اور چینی فضائیہ کے اشتراک سے منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ مشقیں سالانہ بنیادوں پر منعقد کروائی جاتی ہیں۔پاکستان اور چین کی مشترکہ شاہین مشقوں کا اغاز 2001 میں ہوا تھا۔ تب سے ایک سال یہ مشقیں پاکستان جبکہ اگلے سال چین میں ہوتی ہیں۔ ان مشقوں کے دوران پاکستان اور چین دونوں ممالک کے جنیگ طیارے شامل ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کی فضائیہ کے پائلٹس اور دیگر عملہ اپنا تربیتی معیار بہتر کرنے پر توجہ دیتے ہیں.

دونوں ممالک کے درمیان یہ آٹھویں سالانہ مشقیں ہیں اسی لیے انہیں شاہین 8 کا نام دیا گیا ہے۔ مشقوں کے انعقاد سے بالعموم دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات بڑھانے اور بالخصوص دونوں ملکوں کی فضائیہ کے باہم ملکر کام کرنے کا طریقہ کار وضع کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔گزشتہ سال دونوں دیرینہ دوست ملکوں کی فضائیہ کے درمیان مشترکہ تربیت پاکستان میں منعقد ہوئی تھیں جبکہ رواں برس یہ مشقیں چین میں ہو رہی ہیں۔

پاکستان اور چین کی ان مشترکہ فضائی مشقوں نے بھارت کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں اور وہ مسلسل منفی پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور چین کی مشترکہ فضائی مشقوں کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے باعث جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ 

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں زندگی کیمرے کی آنکھ سے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں زندگی کیمرے کی آنکھ سے

  • 21 اگست 2019
کشمیرتصویر کے کاپی رائٹAVANI RAI

خاتون فوٹو گرافر اونی رائے بتاتی ہیں کہ کشمیر کی وجہ سے ہی وہ فوٹو گرافر بنی تھیں۔ کشمیر کا ان پر اتنا اثر ہے کہ وہ سال کے آٹھ نو مہینے وہیں گزارتی ہیں۔اونی 2014 میں پہلی بار کشمیر گئی تھیں۔

کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟ 

کشمیر: منان وانی کون تھے؟

کشمیر: لاک ڈاؤن میں زندگی کیسی تھی؟

کشمیرتصویر کے کاپی رائٹAVANI RAIImage captionایک مییت پر کشمیری

ان چار پانچ برسوں میں انھوں نے کشمیری لوگوں کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو کیمرے میں قید کرنے کی کوشش کی ہے۔

کشمیرتصویر کے کاپی رائٹMOHAMMAD ALVANIImage captionاونی رائے

اونی کہتی ہیں فون سروسز بند ہیں اور جو بھی آواز آ رہی ہے وہ سری نگر سے آ رہی ہے جہاں صحافی ہیں جبکہ شمال میں اُڑی اور جنوب میں پلوامہ سے کوئی آواز نہیں آ رہی۔

اونی کہتی ہیں کہ ’اندرونی وادی سے جو آوازیں آ رہی ہیں وہ چوری چھپے اور انتہائی احتیاط کے ساتھ ’پین ڈرائیو‘ کے ذریعے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں خون خرابے پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے اور اس میں کشمیری لوگوں کی دکھ بھری کہانیاں دب کر رہ جاتی ہیں۔ کشمیری عورتیں اور بچے جس دکھ میں ہیں وہ بہت بڑی نہ انصافی ہے۔‘

کشمیرتصویر کے کاپی رائٹAVNI RAIاونی کہتی ہیں فون سروسسز بند ہیں اور جو بھImage captionپلین کریش کے بعد کے حالات دیکھنے پہنچے کشمیری لوگ

برسوں سے کشمیر میں عید منانے والی اونی کو دکھ ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد کشمیر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کے سبب اس سال وہ کشمیر میں عید نہیں منا پائیں۔

کشمیری بچہتصویر کے کاپی رائٹAVANI RAIImage captionنمائش میں شامل یہ تصویراونی کے دل کے بہت قریب ہے

نمائش میں شامل یہ تصویر اونی کے دل کے بہت قریب ہے جس میں ایک بچہ کریش ہونے والے طیارے کا سرکِٹ ہاتھ میں لیے کھڑا ہے۔

کشمیرتصویر کے کاپی رائٹAVANI RAI

اونی نے ان تصاویر کی نمائش کی ہے جس میں کشمیریوں کی روز مرہ کی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔

کشمیرتصویر کے کاپی رائٹALAMYImage captionنماز ادا کرنے والی کشمیری خواتین

اونی کا کہنا تھا کہ یہ نمائش کشمیری لوگوں کے طویل عرصے سے جاری دکھ اور درد کی آواز ہے جو موجودہ حالات میں دبی ہوئی ہے۔ 

۔

عمران خان نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے مودی کا بہانہ کیا جنرل قمر جاوید باجوہ عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین سے نہیں بچا سکتے ۔ حامد میر

عمران خان نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے مودی کا بہانہ کیا

جنرل قمر جاوید باجوہ عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین سے نہیں بچا سکتے ۔ حامد میر

صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کا ایک سال 18 اگست کو مکمل کیا جس کے اگلے ہی دن انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2019ء میں ریٹائر ہو رہے تھے لیکن اس توسیع کے بعد ان کی مدت ملازمت میں نومبر 2022ء تک توسیع ہو گئی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع کیوں دی؟ اپنے کئی انٹرویوز میں عمران خان نے پیپلز پارٹی کی جانب سے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مدت ملازمت میں دی جانے والی توسیع کی مخالفت کی اور کہا کہ اگر ملک حالت جنگ میں ہو تب بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہئیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان 2018ء میں پاکستان کے خوش قسمت ترینوزیراعظم ٹھہرے کیونکہ ان کے وزیراعظم بننے کے بعد آرمی اور عدلیہ نے ان کی حمایت کی اور ان کو مکمل سپورٹ کیا لیکن اس سب کے باوجود گذشتہ ایک برس کے دوران عمران خان ملک کی سیاست اور پالیسیز میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدتملازمت میں توسیع نہیں دی گئی کیونکہ کافی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ توسیع اس لیے دی گئی ہے کہ عمران خان جنرل باجوہ کے بغیر حکومت نہیں چلا سکتے۔ وہ کئی مرتبہ کُھلے عام جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں وزیراعظم اس لیے بنا کیونکہ میرے ساتھ ساتھ جنرل قمر جاوید باجوہ بھینیا پاکستانپر یقین رکھتے ہیں۔

لیکن عمران خان کا یہ نیا پاکستان عام عوام کو معاشی ریلیف دینے میں ناکام ہو گیا۔ ملک کے معاشی سنبھالے نہیں سنبھل رہے تھے، آرمی چیف کا کام امداد مانگنا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایسا کیا۔ کافی حلقوں میں یہ بات کی گئی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ چین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی وجہ سے ہی پاکستان کو مالی امداد ملی۔

عمران خان کے خلاف معیشت تباہ کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے خوباحتجاج کیا اور ریلیاں بھی نکالیں۔ ان نازک حالات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر دیا۔ یہ معاملہ وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک نعمت تھا کیونکہ اس سے تمام جماعتوں اور عوام کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور پاک بھارت جنگ کی جانب مبذول ہو گئی۔

یہ اطلاعات بھی موصول ہوئیں کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو مدتملازمت میں توسیع دینے کا فیصلہ کر رکھا ہے لیکن اس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا اور پھر عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹھیک اُسی دن مدت ملازمت میں توسیع دینے کا اعلان کیا جس دن اسلام آباد میں اپوزیشن پارٹیوں کا اجلاس ہوا اور عمران خان کے خلاف بڑی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ ایک آرمی چیف ملک کو درپیش بیرونی خطرات سے نمٹ سکتا ہے لیکن اس کے لیے سول حکومت کے مخالفین سے لڑنا آسان نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی دوسری مدت میں محتاط رہیں گے اور پاکستان کے سیاسی معاملات میں ملوث ہونے سے گریز کریں گے۔اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کا مقصد پاکبھارت جنگ کا خطرہ ختم کرنے اور افغان طالبان امن عمل کو مکمل کرنے کا ہے۔ حامد میر نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیےپاکستان کی سول اور عسکری قیادت بلا شبہ ایک پیج پر ہے لیکن یہی سکیورٹی صورتحال جنرل قمر جاوید باجوہ کو حکومت کی بجائے صرف پاکستان کا دفاع کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔