
آرٹیکل 370 کے خاتمے کا سب سے زیادہ نقصان ہندوؤں کو ہو گا، وجہ بھی سامنے آگئی
سب سے زیادہ نقصان جموں کے لوگوں کا ہو گا، بنیا جموں میں آکر آباد ہو گا، وادی کی طرف نہیں آئے گا: وزیرعظم آزاد کشمیر کا دعویٰ
وزیرعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے دعویٰ کیا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کا سب سے زیادہ نقصان ہندوؤں کو ہو گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کاسب سے زیادہ نقصان جموں کے لوگوں کا ہو گا، بنیا جموں میں آکر آباد ہو گا، وادی کی طرف نہیں آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے اسرائیل میں جب دوسرے ملکوں سے یہودی جاکر آباد ہوئے تو مقامی یہودی اقلیت میں چلے گئے تھے اور اب بھی وہ اقلیت ہیں ا ور ایسا ہی جموں کے ہندوﺅں کے ساتھ ہوگا۔راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آئین میں ترمیم کرنے کے بعد میں صرفآزاد کشمیر کا وزیراعظم ہی نہیں ہوں بلکہ پوری ریاست جموں وکشمیر کا وزیر اعظم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد مودی کو خیال آیا کہ کہیں معاملہ اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے جس پر اس نے کشمیر کی الگ حیثیت ختم کردی اور کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ۔
انہوں نے کہا کہ 370کے ختم ہونے سے سب سے زیادہ نقصان جموں کے لوگوں کوہوگا ، بنیا جموں میں آکر آباد ہوگا،وادی کی طرف نہیں آئے گا ، یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے اسرائیل میں جب دوسرے ملکوں سے یہودی جاکر آباد ہوئے تو مقامی یہودی اقلیت میں چلے گئے تھے اور اب بھی وہ اقلیت ہیں اور ایسا ہی جموں کے ہندﺅں کے ساتھ ہوگا۔ اسی حوالے سے بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگرس نے آرٹیکل 370 کےخاتمے کوبھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا آغاز قرار دے دیا ہے۔کانگریس کے سینئٔر رہنما پی چدم بر م نے دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ی جے پی کی مرکزی حکومت آئین کی مختلف شقوں کی شرارتی طور پر غلط تشریح کر کے یہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بھارتی ذرئع ابلاغ کے مطابق چدمبرم نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے حوالے سے اگر حکومت اس راستے پر عمل پیرا ہوتی ہے تو یہ ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا آغاز ہے۔ کانگریسی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کو خدشہ تھا کہ بی جے پی کی حکومت کوئی غلط اقدام اٹھائے گی لیکن یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حکومت ایسا تباہ کن قدم اٹھائیگی۔















