سلامتی کونسل کا اجلاس، بھارت کو شکست ہوگئی

سلامتی کونسل کا اجلاس، بھارت کو شکست ہوگئی

اقوام متحدہ کی سب سے طاقتور تنظیم کا بند کمرے میں اجلاس شروع ہوگیا، بھارت نے اجلاس رکوانے کی سر توڑ کوششیں کی تاہم ناکام رہا

 سلامتی کونسل کا اجلاس، بھارت کو شکست ہوگئی، اقوام متحدہ کی سب سے طاقتور تنظیم کا بند کمرے میں اجلاس شروع ہوگیا، بھارت نے اجلاس رکوانے کی سر توڑ کوششیں کی تاہم ناکام رہا۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ شروع ہو گیا ہے.سلامتی کونسل کے خصوصی مشاورتی اجلاس میں ہیمقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر باقاعدہ اجلاس طلب کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہوگا۔

بھارت نے اجلاس روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی اور مکمل ناکام ہوا، اجلاس میں اقوام متحدہ ملٹری آبزرور گروپ اور ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹکل افیئر بریفنگ دیں گے، کونسل کی صوابدید ہے کہ پریس اسٹیٹمنٹ جاری کرے یا نہ کرے۔

صورتحال خراب ہوئی تو اوپن بحث بھی ہو سکتی ہے، اس وقت سلامتی کونسل کی میز پر کوئی قرارداد نہیں ہے، اس اجلاس کو کوئی ممبر ویٹو نہیں کرسکتا۔

کونسل فیصلہ کرے گی کہ آگے کیسے چلنا ہے، پاکستان یا بھارت میں سے کسی کو اجلاس میں بلایا نہیں جائے گا۔ بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود اجلاس بلایا گیا، آج کا اجلاس بھارت کی اقوام متحدہ قراردادوں کی خلاف ورزی، انسانی حقوق کی پامالیوں پر بلایا گیا۔ یاد رہے کہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازع کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی کل تعداد 15 ہے جن میں 5 مستقل جبکہ 10 غیر مستقل رکن ہیں۔ امریکا، روس، چین،فرانس اور برطانیہ مستقل ارکان ہیں۔ غیر مستقل ارکان میں بیلجیئم، آئیوری کوسٹ، ڈومنیکن ریپبلک، جرمنی، گنی، انڈونیشیا، کویت، پیرو، پولینڈ اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ پاکستان اور بھارت سلامتی کونسل کے رکن نہ ہونے پر اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

بھارت نے جنگ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا

بھارت نے جنگ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا

بھارتی فوج کی جانب سے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت غیر روایتی جنگجو گروپوں کو جموں، کشمیر اور راجھستان میں تعینات کرنے کا فیصلہ، پاکستان کی سرحد کے ساتھ جدید روسی ٹی 90 ٹینک بھی تعینات کیے جائیں گے

بھارت نے جنگ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا، بھارتی فوج کی جانب سے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت غیر روایتی جنگجو گروپوں کو جموں، کشمیر اور راجھستان میں تعینات کرنے کا فیصلہ، پاکستان کی سرحد کے ساتھ جدید روسی ٹی 90 ٹینک بھی تعینات کیے جائیں گے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار اور بھارتی عسکری قیادت نےپاکستان کیخلاف سرد جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

سرد جنگ میں بھارتی فوج براہ راست ملوث نہیں ہوگی۔ ایسی جنگ میںبھارت کے غیر روایتی جنگجو گروپ ملوث ہوں گے۔ بھارتی حکومت اور عسکری قیادت نے ان غیر روایتی جنگجو گروپوں کو جموں، پنجاب اور راجھستان کے سرحدی علاقوں میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

ان گروپوں کو بھاری ہتھیار اور جدید روسی ٹی 90 ٹینک بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ان گروپوں کے پاکستان پر حملے کیلئے فری ہینڈ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب موجودہ صورتحال میں اپنی ہٹ دھرمیوں اور مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت ایک مرتبہ پھر جارحیت پر اُتر آیا ہے۔ اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ موجودہ صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیےبھارت نے لائن آف کنٹرول پرفائرنگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

بھارتی فوج کی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول پر پاک فوج کے تین جوانشہید ہو گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نےبتایا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔ایل او سی پر بھارت کیفائرنگ کے بعد پاک فوج کی جوابی کاروائی سے کئی بنکرز تباہ ہو گئے۔جب کہ کئی بھارتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ ایل او سی پر بھارت کی جانب سےفائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

شہید ہونے والے سپاہیوں کا تعلق لاہوراور خانیوال سے ہے۔شہید لانس نائیک تیمور کا تعلق لاہور سے ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ میں غیر معمولی اضافہ اس وقت سامنے آیا جب مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری توجہ دے رہی ہے جبکہ آج ہی اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے جو کل ہو گا۔ اس سے قبل بھارت کی گھناؤنی سازش کی خبریں بھی موصول ہوئی تھیں جن کے مطابق بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ظلم سے عالمی توجہ ہٹانے کی سازش بے نقاب ہو گئی ہے۔

جارحیت پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اب نئے ڈرامے کی تیاری کر لی ہے۔ جس کے تحت بھارتی فوج نے اپنے ہی علاقے میں جعلی کارروائی کی منصوبہ بندی کر لی۔خیال رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم جاری رکھے اور کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئے جس پرپاکستان نے عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی جانب بارہا مبذول کروائی تھی

کشمیر کی مدد کیلئے پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں پاکستان کو اہم پیغام دے دیا گیا

کشمیر کی مدد کے لیے پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں 

پاکستان غیرت کا مظاہرہ کرے اور کشمیر کے لیے ہندوستان سے جنگ کرے،کشمیر 70 سال سے پاکستان کے لیے لٹتے رہے تو ہم بھی ان کی خاطر لڑ مر سکتے ہیں۔ سینئیر تجزیہ نگار

کشمیر کی مدد کے لیے پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کا کہنا ہے کہ پہلے جو کشمیری علحیدگی پسند نہیں تھے وہ بھی اب علحیدگی پسند ہو گئے ہیں۔کشمیر پر ہماری پالیسی سیاست سے بالاتر ہوکر بنائی جانی چاہئیے،سلامتی کونسل جیسے ادارے عالمی طاقتوں کے ٹولز ہیں جو پہلے ہی انڈیا کے ہمنوا ہیں۔

تمام سیاسی قائدین کو پارٹی لائنز سے اوپر اٹھ کر دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑنا چاہئیے۔اسی حوالے سے تجزیہ نگار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کی مدد کے لیے پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔پاکستان ڈپلومیسی کے ذریعے سے عالمی برادری کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کروا سکتا ہے۔

لیکن موجودہ صورتحال میں بظاہر یہ ممکن نہیں لگ رہا۔

دوسرا طریقہ کچھ دو اور کچھ لو کا ہو سکتا ہے جس کے لیے کچھ عالمی اور ریجنل کھلاڑی کام بھی کر رہے ہیں۔لیکن ایسا حل نہ تو کشمیریوں اور نہ ہیپاکستان کو قابل قبول ہے۔تیسرا حل یہی ہے کہ پاکستان غیرت کا مظاہرہ کرے اور کشمیر کے لیے ہندوستان سے جنگ کرے۔اگر کشمیر ستر سال سے پاکستان کے لیے لٹتے رہے تو ہم بھی ان کی خاطر لڑ مر سکتے ہیں۔جب کہ سینئیر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ستر برسوں میںدنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ صحیح طریقے سے نہیں لڑا۔

ماضی میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہوتی رہیں۔ہم نے اب تک کشمیر کا مقدمہ بہت کمزور انداز میں لڑا ہے۔پاکستان اس مسئلہ پر مضبوط پالیسی بنا کر دنیا سے اپنی بات منوا سکتا ہے۔کشمیر پر پاکستان کا مقدمہ مضبوط ہے وکیل مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ کا 3 روزہ دورہ بیجنگ ناکام ہوگیا

بھارتی وزیر خارجہ کا 3 روزہ دورہ بیجنگ ناکام ہوگیا

مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے کی چین کی جانب سے شدید مذمت، لداخ کو بھارتی یونین ٹیریٹری بنانا چین کی علاقائی خودمختاری پر ضرب لگانے کی کوشش قرار دے دیا

بیجنگ ( 14 اگست2019ء) بھارتی وزیر خارجہ کا 3 روزہ دورہ بیجنگ ناکام ہوگیا مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے کی چین کی جانب سے شدید مذمت، لداخ کو بھارتی یونین ٹیریٹری بنانا چین کی علاقائی خودمختاری پر ضرب لگانے کی کوشش قرار دے دیا. تفصیلات کے مطابق کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے اورپاکستان کو ناکام

کرنے کیلئے بھارتی وزیرخارجہ کا دورہ چین ناکام ہوگیا ہے. چین نے بھارتی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اقدام کوایک بار پھر مسترد کردیا. بھارتی وزیرخارجہ کی چینی ہم منصب کو راضی کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں جس کے بعد اس حوالے سے چین نے بھارت کو ٹکا سا جواب دے دیا. بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر چینی قیادت

کو راضی کرنے کیلئے بیجنگ پہنچے تھے جہاں انہوں نے چینی نائب صدر وانگ کی شن اور وزیرخارجہ وانگ ای سے ملاقات کی. چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق ملاقات میں چینی وزیرخارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت کو ختم کرنے اور لداخ کو وفاقی علاقہ قرار دینے کے بھارتی فیصلے کی شدید مذمت کی . چینی رہنماؤں نے ملاقات میں بھارتی وزیر خارجہ پر واضح

کردیا کہ چین مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی مخالفت کرتا ہے. بھارت سرحدوں کے معاملے پر احتیاط کرے. لداخ کو بھارتی یونین ٹیریٹری بنانا چین کی علاقائی خودمختاری پر ضرب لگانے کی کوشش ہے. دوسری جانب اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چین بھی سمجھتا ہے بھارت کا حالیہ اقدام غیر آئینی، یکطرفہ اقوام متحدہ سیکورٹی

کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے. اس لیے سیکورٹی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے،بھارتی غیر آئینی اقدام کو زیربحث لایا جائے.

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الٹی گنتی گننے کا اشارہ دے دیا یومِ سیاہ میں 150منٹ باقی، الٹی گنتی شروع ہو گئی: میجر جنرل آصف غفور

پاک فوج کے شعبہ اطلاعاتِ عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے یومِ سیاہ کے آغاز میں 150منٹ باقی رہ جانے پر الٹی گنتی گننے کا اشارہ دے دیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ’’یومِ سیاہ میں 150منٹ باقی، الٹی گنتی شروع‘‘. 

Asif Ghafoor@peaceforchange

Count down for Black Day….
Starts in 150 minutes.14.7K5:30 PM – Aug 14, 2019Twitter Ads info and privacy10.2K people are talking about this خیال رہے کہ اس سے پہلے پاکستانی 15اگست کو بھارتی یومِ آزادی کے دن کو یومِ سیاہ کے طور پہ منانے کا اعلان کیا تھا اور اب پوک فوج نے بھی یومِ سیاہ شروع ہونے کے حوالے سے الٹی گننے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے، یومِ سیاہ میں 150منٹ باقی ہیں۔اس سے قبل آج صبح ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ کشمیر کی اصلیت نہ 1947کے ایک غیرقانونی کاغذ کے ٹکڑے سے بدلی جا سکی تھی نہ اب بدلی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ کمشیر پہ کسی بھی قسم کا سودا نہیں کیا جاسکتا، ہم کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر ظلم کی راہ میں کھڑے رہیں گے۔ ڈی جی ائی ایس پی آر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’’ 1947 میں کشمیر کی حقیقت کو غیر قانونی کاغذ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکا تھا اور نہ ہی کوئی اب آئندہ بھی کر سکے گا۔پاکستانہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت کے بالادست عزائم کے خلاف کھڑا رہا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ کشمیر پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔‘‘

مودی کو ہٹلر کہنے پر وزیراعظم عمران خان کے بیان کو عالمی میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی برطانوی، امریکی، چینی، خلیجی، روسی اور فرانسیسی میڈیا نے وزیراعظم کے بیان کو اپنے اخبارات اور ویب سائٹس پر نمایاں طور پر جگہ دی

 وزیراعظم پاکستان کے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط اور کشمیریوں کی نسل کشی کو نازی نظریات سے متاثر ہونے اور بھارتیوزیراعظم نریندر مودی کو ہٹلر کہنے سے متعلق بیان کو عالمی میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی۔برطانوی، امریکی، چینی، خلیجی، روسی اور فرانسیسی میڈیا نےوزیراعظم کے بیان کو اپنے اخبارات اور ویب سائٹس پر نمایاں طور پر جگہ دی ہے۔

چینی اخبار ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ نے لکھا لپ پاکستانی وزیراعظم نے کشمیر کے دفاع میں عالمی برادری کی عدم دلچسپی کو ہٹلر جیسے رہنماؤں کی خوشامد کے مترادف قرار دیا ہے۔ اخبار العربیہ نے لکھا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر پر دنیا کی بے حسی کو ماضی میں ہٹلر کو خوش کرنے کے عالمی اقدامات کے مترادف قرارد یا ہے۔

برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز نے لکھا کہ عمران خان کے مطابق بھارت نسل کشی اور لاک ڈاؤن کے ذریعے کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے لکھا کہ عمران خان نے کشمیر پر بھارت کے جبری تسلط کو نازی عزائم کے جیسا قرار دیا ہے۔ فرانسیسی اخبار Le Monde نے لکھا کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو نازی ازم کے عروج سے تشبیہ دیا ہے۔روسی خبر ایجنسی اسپوتنک نے لکھا کہوزیراعظم پاکستان کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی خقوق کی خلاف ورزیاں اور کشمیریوں کی نسل کشی نازی سوچ سے متاثر ہے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی اخبار دی اکانومسٹ نے ایک مضمون میں لکھا کہ کشمیر کی خودمختاری کو آئینی ترمیم کے ذریعے بدلنے پر مودی سرکار کو منہ کی کھانا پڑے گی،بھارت جو چاہتا ہے نتائج اس کے برعکس ہوں گے۔

پاکستانیوں کا میجر جنرل آصف غفور کے حق میں ٹویٹر ٹرینڈ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ہم وطنوں کا شکریہ ادا کر دیا

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے اپنی حمایت میں ٹویٹر ٹرینڈ شروع کرنے پر ان کا بے حد شکریہ ادا کیا۔ ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے پیغام میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ میرے پیارے پاکستانیو! آپ نے بھارتی ٹرینڈ کے مقابلے میں میرے لیے گذشتہ رات ایک ٹرینڈ متعارف کروایا جس پر میں آپ کا شکرگزار ہوں۔

مجھے آپ کی محبت اور سپورٹ کا مکمل طور پر احساس ہے لیکن بھارت کی جانب سے کی جانے والی بیان بازی سے ہمیں فرق نہیں پڑنا چاہئیے۔ کاش کہ میں آپ سب کا انفرادی طور پر شکریہ ادا کر سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے WeArePakistan# کا ہیش ٹیگ بھی شئیر کیا اور کچھ تصاویر بھی شئیرکیں جس میں آصف غفور کے حق میں چلایا گیا ٹویٹر ٹرینڈ سب سے اُوپر تھا۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور پر الزام تراشی کی گئی اور ان کی تصاویر شئیر کر کے کہا گیا کہ آصف غفوربھارت کے خلاف چلنے والے جھوٹی خبروں اور پراپیگنڈہ کے ذمہ دار ہیں۔

اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ جیسے ہی کوئی جھوٹی خبر دیکھو تو فوراً اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرو جس کے بعد بھارتی صارفین نے میجر جنرل آصف غفور کے خلاف ایک ٹویٹر ٹرینڈ متعارف کروایا جس کی کامیابی پر بھارتی پھولے نہ سمائے لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکی کیونکہ میجر جنرل آصف غفور کے حق میں پاکستانی عوام نے ایک ٹویٹر ٹرینڈ WeAreAsifGhafoor# متعارف کروایا جسے اتنی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جس پر آج میجر جنرل آصف غفور نے بھی پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا۔

طالبان نے افغانستان میں را کا ہیڈکوارٹر تباہ کر دیا معروف تجزیہ نگار اوریا مقبول جان نے ہلمند میں طالبان کے کیے گئے حملے سے متعلق اہم دعویٰ کر دیا

افغانستان میںطالبان نے امریکی اور افغان فورسز کی مشترکہ ملٹری بیس پر حملہ کیا۔طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی آپریشن میں 9 حملہ آوروں نے 137 امریکی فوجی ہلاک کیے ہیں۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک دعویٰ کیا ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

طالبان نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہم نے افغانستان میں جو حملہ کیا اس میں را کا ہیڈ کوارٹر بھی تباہ کیا۔اوریا مقبول جان نے مزید کہا کہ ہلمند وہ صوبہ ہے جہاں تفتان سے اوپر ایک کونہ ہے جہاں افغانستان ایران اور پاکستان آپس میں ملتے ہیں۔اوریا مقبول جان نے مزید کہا کہ یہ وہ صوبہ ہے جہاںبھارت میں بہت زیادہ پیسہ لگایا۔

کیونکہ یہ چاہ بہار بندرگاہ کے ساتھ ہے۔

واضح رہے گذشتہ ہفتے حملے کے بعد ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں افغان فوج کے کیمپ پر طالبان کے حملے میں 40 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حملے میں 22 طالبان شدت پسند بھی مارے گئے۔حملے میں دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فوجی گاڑیوں اور دفاتر کونقصان پہنچا،ادھرطالبان کے ترجمان قاری یوسف احمد نے اپنے بیان میں حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہاہے کہ کیمپ پر طالبان کے حملے میں افغان فورسز کے ساتھ ساتھ غیرملکی افواج کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں مارے گئے۔

بعدازاں شمالی صوبے ساری پل میں طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 9اہلکار مارے گئے۔ حملے میں 12 افراد زخمیبھی ہوئے جبکہ چار افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں مانا جا رہا ہے کہ انہیں طالبان زندہ اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔ اس حملے کی ذمے داری بھی طالبان نے قبول کرلی ہے جسے اس وقت انجام دیا گیا جب سیکیورٹی فورسز ایک آپریشن سے واپس لوٹ رہی تھیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی تمہیں تو میں باندھ کر آیا تھا ، ڈبو ۔۔۔ مشاہد اللہ کا فواد چوہدری پر وار

تمہیں تو میں باندھ کر آیا تھا ، ڈبو ۔ مشاہد اللہ کا فواد چوہدری پر وار

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشاہد اللہ اور فواد چوہدری میں تلخ کلامی اور گالم گلوچ

مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر آج بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج صادق سنجرانی کی زیر صدارت جاری ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اللہ اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور گالم گلوچ ہوئی جس پر صادق سنجرانی بار بار دونوں ارکان اسمبلی کو بیٹھنے اور چُپ رہنے کی ہدایت کرتے رہے ۔

فواد چوہدری کے بولنے پر مشاہد اللہ نے انہیں شٹ اپ کال دیتے ہوئے کہا کہ تمہیں تو میں باندھ کر آیا تھا ، ڈبو۔ جس پر دونوں رہنماؤں میں ایک مرتبہ پھر سے تلخ کلامی ہوئی لیکن کچھ ہی لمحے بعد صادق سنجرانی کے اصرار پر دونوں رہنما خاموش ہو گئے اور غیر پارلیمانی الفاظ کو حذف کروادیا گیا.

اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کشمیر کا مسئلہ حل کرائے، کشمیر ایک عالمی تنازع ہے، کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنا غیر قانونی اقدام ہے، بھارت نے عالمی سطح پر جنگی جرم کیا ہے، بھارت نے غلط اقدامات سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائیں، بھارت جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے، بھارت نے ایل او سی پر کلسٹر بم استعمال کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی، صدر سلامتی کونسل اور یو این سیکرٹری جنرل کو بھی خط لکھا گیا، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کیلئے بھی کوشش کی جا رہی ہے، اسرائیل نے جو فلسطین میں کیا وہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے، خطے میں امن کیسے آئے گا جببھارت جنگ کی تیاری کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے۔ خیال رہے کہ آج وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر خارجہ کی جانب سے پالیسی بیان بھی متوقع ہے۔

بھارت 15اگست کو حملہ کرنے والا ہے،پاکستان کو خبردار کر دیا گیا

بھارت 15اگست کو پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے: زید حامد نے خبردار کر دیا

ان کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے سے پہلے ہمیں جنگ ان تک لے جانی چاہیے: پاکستانی تھنک ٹینک نے تجویز دے 

 پاکستانی تھنک ٹینک زید حامد نے خبردار کیا ہے کہ بھارت 15اگست کو پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’میں پاکستانی قیادت کو خبردار کر رہا ہوں، بھارت پاکستانی کشمیر پر حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے، یہ حملہ مبینہ طور پہ 15اگست کو کیا جائے گا۔۔۔ان کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے سے پہلے ہمیں جنگ ان تک لے جانی چاہیے‘‘۔ 

Zaid Hamid@ZaidZamanHamid

I am warning Pakistani leadership….Indian planning an attack on Pakistani Kashmir…probably by August 15th.
This swine Malhotra is their core ideologue…he feeds Modi & Amit Shah….
We must take the war to them before they bring it to us..on their terms…. https://twitter.com/RajivMessage/status/1158572399874363392 …Rajiv Malhotra@RajivMessageReplying to @RajivMessageUSA is keeping China busy directly (& indirectly via Hong Kong). For next few weeks, US troops in Afghan also keeping Pak contained. Important WINDOW for India to consolidate power.9417:17 PM – Aug 6, 2019Twitter Ads info and privacy575 people are talking about thisخیال رہے کہ زید حامد پاکستانی تھینک ٹینک ہیں اور ان کی پہلے بھی کئی پیشنگوئیاں سچ ثابت ہو چکی ہیں اور اب انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بھارتی اعلان پر آج آرمی چیفجنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈر کانفرنس طلب کر رکھی تھی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ہم وطن کے دفاع کے لیے بھی ہر حد تک جائیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہم ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہیں اورپاک فوج کشمیریوں کا جدوجہد کےاختتام تک ساتھ دے گی۔ اس کے علاوہ سینئیر صحافی عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ آج رات عمران خان اور آرمی چیف مل کر بہت اہم کام کرنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف آج تین سپر پاورز کو پیغام بھیجیں گے کہبھارت باز آجائے ورنہ پاکستان بھارت کو باز لانے کی طاقت رکھتا ہے۔ سینئیر صحافی نے کہا ہے کہ بھارت میں اس وقت 10 سے زائد علیحدگی پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت باز نہ آیا تو پاکستان اسے باز لائے گا اور اسے اس کی اصل حیثیت میں واپس لایا جائے گا۔ عارف حمید بھٹی نے کہا کہ آج وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مل کر تین ممالک کو پیغام بھیجیں گے، انہوں نے کہا کہ یہ پیغام دنیا کی 3سپرپاورز کو بھیجا جائے گا اور اقوزمِ متحدہ کو بھی یہ پیغام دیا جائے گا اگر بھارت پاکستان میں دہشتگردی کرنے سے باز نہ آیا تو پاکستان بھارت کو خود روکنے کی طاقت رکھتا ہے۔