جنگ بندی معاہدے کے باوجود شمالی شام میں ترکی کے حملے جاری، 14 شہری ہلاک ہوگئے

جنگ بندی معاہدے کے باوجود شمالی شام میں ترکی کے حملے جاری، 14 شہری ہلاک ہوگئے

وعدے پورے کردیئے گئے تو محفوظ زون کا مسئلہ حل ہوجائیگا ، ایسا نہ ہونے پر 120 گھنٹوں بعد آپریشن کا دوبارہ آغاز کردیا جائیگا، طیب اردگان

امریکہ اور ترکی کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے باوجود شمال مشرقی شام میں ترکی کی بمباری سے 14 شہری ہلاک ہوگئے۔استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وعدے پورے کردیئے گئے تو محفوظ زون کا مسئلہ حل ہوجائیگا تاہم اگر وعدے پورے نہیں ہوئے تو 120 گھنٹوں بعد آپریشن کا آغاز کردیا جائے گا،جنگ کی معطلی ترکی کو بغیر لڑے اس کا اصل ہدف حاصل کرنے کیلئے کی گئی ہے تاہم شام میں ترکی کے پراکسی اب بھی کرد جنگجوں سے لڑنے میں مصروف ہیں،شامی مبصر برائے انسانی حقوق باب الخیر نے کہا ہے کہترکی کے فضائی حملے اور اس کے اتحادی شامی جنگجوں کے مارٹر گولوں کی وجہ سے 14 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم مبصر نے کہا ہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے 8 جنگجو بھی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفی بالی نے کہا کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کے دورہ انقرہ کے دوران ان کے ترکی سے ہوئے معاہدے کی ترکی خلاف ورزی کررہا ہے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہترکی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوئے علاقے پر گزشتہ رات سے حملے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کی جانب سے شام میں فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد امریکا اس پر عائد کی گئی حالیہ پابندیاں اٹھا لے گا۔

بوطانوی شہزادے کا پاکستان کے حق میں ایسا بیان، ہندوستانیوں کے تن بدن میں آگ لگا دی

پاکستان کی امن و سلامتی کیلئے کاوش برطانیہ کو محفوظ رکھتی ہے،شہزادہ ولیم

ہمارے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور ان تعلقات کی وجہ سے ہی برطانیہ میں لوگ محفوظ ہیں، گفتگو

برطانوی شہزادہ ولیم نے کہا ہے کہ پاکستان کی امن و سلامتی کے لیے کوششیں برطانیہ کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن 4 روزہ سرکاری دورہ پورا کرنے کے بعد گزشتہ روز وطن واپس روانہ ہو گئے تھے۔اپنے دورے کے دوران برطانوی شاہی جوڑے نے صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان سے ملاقاتوں کے علاوہ سیاحتی مقامات کی سیر بھی کی۔

شاہی جوڑے نے پاکستان کے تاریخی دورے کو یادگار قرار دیا اور اپنے دورے کے آخری روز انہوں نے اسلام آباد میں کتوں کو دہشت گردی سے بچاؤ کی تربیت دینے والے ادارے کا دورہ بھی کیا جہاں برطانوی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس موقع پر شہزادہ ولیم کا کہنا تھا کہپاکستان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر برطانیہ کی سڑکوں پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

برطانوی شہزادے نے کہا یہی وجہ ہے کہ ہم آج یہاں موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ہمارے لیے کتنا اہم ہے۔شہزادہ ولیم نے کہا کہ ہمارے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور ان تعلقات کی وجہ سے ہی برطانیہ میں لوگ محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے ہفتے ہمپاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے سنتے رہے اور ہمیں اس دورے سے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کی اہمیت کا اندازہ ہوا

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے اور وارننگ دینے سے انکار کردیا

بھارت کی تمام کوششیں رائیگاں، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے اور وارننگ دینے سے انکار کردیا

پاکستان کو نہ تو بلیک لسٹ میں ڈالا جائے گا اور نہ ہی وارننگ جاری کی جائے گی، فروری میں پاکستان کا گرے لسٹ سے بھی باہر آجانے کا امکان

بھارت کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے اور وارننگ دینے سے انکار کردیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں ڈالا جائے گا اور نہ ہی وارننگ جاری کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان میں دہشت گردی کے حوالہ سے خصوصی ہونے والے اجلا س میں ترکی ، چین، انڈونیشیا اورملائیشیا نے پاکستان کی دہشت گردی کے کارروائیوں کو سراہتے ہوئے حمائت کی جس کی وجہ سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیاگیا جب کہ بھارت نے سر توڑ کوشش کی تھی کہ حافظ سعید کے حوالہ سے پاکستان کو بلیک لسٹ میںشامل کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے اسلام آباد کو دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لئے ‘اضافی اقدامات’ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

منگل کو پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت پر قابو پانے کے لئے اسلام آباد کی جانب سے پہلے ہی اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تاہم ، اجلاس نے میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد کو اگلے چار ماہ میں مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ایف اے ٹی ایف حتمی فیصلہ فروری 2020 میں کرے گا۔جب پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے سے انکار کیا گیا تو بھارت نے سر تور کوشش کی کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو وارننگ جاری کرے لیکن ایف اے ٹی ایف نے وارننگ بھی جاری نہیں کی اور پاکستان کو اقدامات کرنے کیلیے فروری تک کا وقت دے دیا ہے اور اب قوی امکان ہے کہ فروری میں پاکستان گرے لسٹ سے بھی باہر آجائے گا۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے راہنما اور سابق صوبائی وزیر محمد اشرف خان سوہنا نے کہا ہے کہ دوست ممالک نے حق دوستی کا کردار ادا کرکے پاکستان کو بلیک لسٹ میںشامل نہیں ہونے دیا عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستانی جنگی طیاروں نے بھارتی طیارے کو گھیرے میں لے کر بھارت کے اوسان خطا کر دیے بھارتی سول ایوی ایشن ادارے کے مطابق گزشتہ نئی دہلی سے کابل جانے والے بھارتی فضائیہ کے طیارے کو غلطی فہمی کی بنا پر پاکستانی طیاروں نے گھیر لیا تھا، تاہم بعد ازاں طیارے کو منزل کی جانب گامزن ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی

 پاکستانی جنگی طیاروں نے بھارتی طیارے کو گھیرے میں لے کر بھارت کے اوسان خطا کر دیے، بھارتی سول ایوی ایشن ادارے کے مطابق گزشتہ نئی دہلی سے کابل جانے والے بھارتی فضائیہ کے طیارے کو غلطی فہمی کی بنا پر پاکستانی طیاروں نے گھیر لیا تھا، تاہم بعد ازاں طیارے کو منزل کی جانب گامزن ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی دارالحکومت نئی دلی سے افغان دارالحکومت کابل جانے والے ایک بھارتی مسافر طیارے کو پاکستانی ایف 16 طیاروں نے اپنی فضا میں گھیر لیا تھا۔ اس حوالے سے بھارتی سول ایوی ایشن ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تمام معاملہ غلطی فہمی کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ماہ 23 ستمبر کو نئی دلی سے کابل جانے والے بھارتی ائیرلائن کے طیارے کو اس وقت پاکستان کے ایف 16 طیاروں نے گھیرے میں لے لیا تھا جب وہ پاکستان کی حدود سے گزر رہا تھا۔تاہم اس موقع پر جب بھارتی مسافر جہاز کے پائلٹ نے پاکستانی جنگی طیاروں کے پائلٹس سے رابطہ کرکے انہیں کمرشل فلائٹ ہونے اور اپنی منزل کی تفصیلات سے متعلق آگاہ کیا تو پھر پاکستانی جنگی طیاروں کی جانب سے بھارتی طیارے کو کابل تک جانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم پاکستانی ایف 16 طیاروں نے پھر بھی بھارتی طیارے کو افغان حدود میں داخل ہونے تک گھیرے میں لیے رکھا۔بھارتی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے معاملے کی حساس نوعیت کے باعث اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے، تاہم بھارتی میڈیا اس انکشاف کے بعد سے پاگل ہو کر مسلسل پاکستان کیخلاف زہر اگل رہا ہے۔ واضح رہے کہ رواں برس فروری کے ماہ میں پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔ کئی ماہ کی بندش کے بعد پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی تھی۔ تاہم اگست کے ماہ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد پاکستان نے بھارتی وزیراعظم اور صدر کو پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان نے ریڈار پر نظر نہ آنے والا جدید ترین طیارہ بنانے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا، ڈیزائن کی نمائش کر دی گئی

پاکستان نے ریڈار پہ نطر نہ آنے والا جدید ترین ففتھ جنریشن طیارہ بنانے کا پہلا مرحل مکمل کرلیا

پاک فضائیہ نے رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو میں پی اے ایف کے سی130 طیارے کی دم پر اپنے مستقبل کے اسٹیلتھ طیارے کے ڈیزائن کی نمائش کردی

 پاکستان نے ریڈار پہ نطر نہ آنے والا جدید ترین ففتھ جنریشن طیارہ بنانے کا پہلا مرحل مکمل کرلیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ نے رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو میں پی اے ایف کے سی130 طیارے کی دم پر اپنے مستقبل کے اسٹیلتھ طیارے کے ڈیزائن کی نمائش کردی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے سالانہ رسالے میں کہا گیا ہے کہ ای وی آر آئی ڈی سیکرٹریٹ نے تصوراتی ڈیزائن کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے ’’تصوراتی ڈیزائن کی تکمیل کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ اس طیارے کی مشکل کارکردگی کے تقاضوں پر مبنی ڈیزائن کی وجہ سے اعلیٰ تجزیہ ٹولز اور کوڈز کا استعمال کرتے ہوئے تخیلاتی ڈیزائن کے اندر پہلا مرحملہ مکمل ہو گیا ہے جبکہ مزید تین مرحلے مکمل کیے جائیں گے۔

پانچویں جنریشن کا یہ فائٹر ایئرکرافٹ پروجیکٹ عزم کے تحت بنایا جارہا ہے۔

اس رپورٹ سے پی اے ایف کے ملک میں آرٹ ایوی ایشن انڈسٹریل بیس کی حالت تیار کرنے کے عزائم کی نشاندہی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ پروجیکٹ عزم کا باقاعدہ آغاز پی اے ایف نے جولائی 2017 میں کیا تھا اور اس کا ایجنڈا ایک ایف جی ایف اے، ایک درمیانی اونچائی اور طویل برداشت والے، نئی اسلحہ اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑی (یو اے وی)، اور متعدد دوسرے منصوبے تیار کرنا ہے۔

پروجیکٹ ازم کے آغاز کے اعلان کے بعد اس وقت کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل سہیل امان نے مطلع کیا تھا کہ بغیر پائلٹ فضائیگاڑی (یو اے وی) کا ڈیزائن اپنے آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے۔

 تاہم ایف جی ایف اے(سٹیلتھ طیارے) کے معاملے حوالے سے پی اے ایف کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ توقع نہیں کرتے ہیں کہ ایف جی ایف اے ابھی مزید ایک دہائی تک آپریشنل ہوسکے گا۔

پاکستان کے پاس ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار موجود….بھارت کو ایٹم بموں میں برتری ہونے کے باوجود جانتے ہیں پاکستان کے پاس ایسا کیا ہے جس نے دشمن ملک کولگام ڈال رکھی ہے

پاکستان کے پاس 140 جبکہ بھارت کے پاس 150 ایٹم بم ہیں

لیکن پاکستان کے پاس ایک ایسی چیز موجود ہے جس نے ابھی تک بھارت کو لگام ڈال رکھی ہے

 پاکستان اس وقت ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان کے پاس موجود ایٹمی قوت کی وجہ سے ہی آج تک کوئی ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہیں کر سکا۔ اس حوالے سے سینئیر صحافی اوریا مقبول جان نے اپنے حالیہ کالم میں کہا کہ جس دن سے عمران خان اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے آخری فقرہ یہ کہہ کر واپس پلٹا ہے کہیاد رکھو دو ایٹمی قوتیں جب ٹکراتی ہیں تو اثرات دور تک جا پہنچتے ہیں، اس دن سے صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ سنجیدہ حلقوں کے ترجمان سائنسی رسالے بھی اس قیامت خیز دن کا منظر پیش کر رہے ہیں، جس دن اگر کسی اچانک تیزوتند حادثے کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ میں ایٹم بم استعمال ہوگیا تو پھر دنیا پر کیا بیتے گی۔

انسانوں کی اموات کا تذکرہ تو اب بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے، کہ مرنے والے تو پاکستان اور بھارت کے شہروں سے تعلق رکھتے ہوں گے۔

اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر ان دونوں ملکوں نے اپنے ایٹمی ہتھیار استعمال کر لیے تو اسکے بعد باقی ماندہ اور بظاہرپرامناور ظلم پر بدترین خاموشی اختیار کرنے والی دنیا پر کیا بیتے گی۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ او بی ٹون (OB Toon) کی مشہور تحقیق کے مطابق اگر دونوں ممالک اپنے پاس موجود تین سو ایٹم بموں میں سے صرف پچاس بم جو K.T 15 طاقت کے ہوں، ایک دوسرے کے شہروں پر چلا دیں تو چشم زدن میں ڈھائی کروڑ لوگ مر جائیں گے اور پانچ کروڑ ایسے زخمی اور بیمار ہوں گے کہ ازیت ناک موت کا انتظار کریں گے۔

اس وقت پوری دنیا کے ایٹمی قوت رکھنے والے ملکوں کے پاس 13,900 ایٹم بم ہیں جن میں سے پاکستان کے پاس 140 اور بھارت کے پاس 150 بم ہیں۔ جبکہ پاکستان نے چھوٹے سائز کے شاطرانہ (Tactical) بم بھی بنا لئے ہیں جو چوبیس ہیں۔ ماہرین کے نزدیک 2025ء تک دونوں ملکوں کے ایٹمی ذخیرے میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق دونوں کے پاس کل ملا کر پانچ سو ایٹم بم ہوں گے۔

اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ دنیا نے اگر اس جنگ کو نہ روکا اور یہ ایک دن ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوگئی، اور یاد رہے کہ یہ ایٹمی جنگ صرف ایک دن ہی چلے گی کیونکہ اس ایک دن سے زیادہ کوئی ایک دوسرے کو مہلت ہی نہیں دے گا۔ ان ایٹمی ہتھیاروں کے چلنے کے بعد فضا میں ایک پگھلا دینے والی گرمی پیدا ہوگی جس سے وہاں پر موجود ہر چیز آگ پکڑ لے گی۔ اس آگ کو وہاں موجود ہوا ایک گرم آندھی میں بدل دے گی اور یوں محسوس ہوگا جیسے ایک آگ کا طوفان ہوتا ہے۔

زمین کے ساتھ ساتھ یہ آگ کا طوفان بڑھیاور پھیلے گا اور اس سے فضا میں بہت بڑی تعداد میں دھواں داخل ہو جائے گا۔ یہ دھواں کوئی عام دھواں نہیں ہوگا بلکہ یہ اپنے اندر انتہائی زہریلیسیاہ کاربنلیے ہوگا۔ یہ وہگیس ہے جو عموما ڈیزل انجن کے مخرج سے برآمد ہوتی ہے۔ یہ زہریلا مواد زمین سے ٹکرانے والے کرّہ اول (Troposhere) سے اس کے بالائی کرّوں (Spehers) میں داخل ہوگا جنہیں Stratosphere کہا جاتا ہے اور پھر چند ہفتوں کے اندر اندر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹون کی تحقیق کے مطابق اگر امریکہ، روس، چین،فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کے پاس موجود آدھے ایٹم بم بھی چل گئے تو زمین پر ایک ایٹمی سرد موسم (Nuclear winter) چھا جائے گا۔ ایک دھواں جو زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔اسکے بعد وہ اذیت ناک رات شروع ہو جائے گی۔ ایسی ہی اذیت ناک رات کا ذکر رسول اکرمؐ نے کیا ہے جو قیامت سے پہلے چھا ئے گی۔ اللہ جب قرآن پاک میں اس دھویں کے ذکر کرتا ہے تو اسکے بعد فرماتا ہےیہ لوگ کہیں گے اے پروردگار ہم سے یہ عذاب دور کر دیجئے ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان کو نصیحت کہاں ہوتی ہے

امریکی اینکر نے عمران خان کو’ویلڈر‘ کہا ہے , وزیر اعظم پاکستان کی دھواں دھار تقریر سے وریندر سہواگ کے کان ’بجنے لگے‘

وزیر اعظم عمران خان کی دھواں دھار تقریر ، وریندر سہواگ کے بھی کان” بجنے “لگے 

سابق بھارتی کرکٹر نے غصہ نکالتے ہوئے کہا کہ امریکی اینکر نے عمران خان کو’ویلڈر‘ کہا ہے

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھائے جانے پر جہاں مودی سرکار بوکھلائی ہوئی ہے وہیں اس کے پیادوں کو بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم کا پردہ فاش کیے جانے کا جواب کس طرح سے دیا جائے ،انہی پیادوں میں سے ایک سابق بھارتی کرکٹر وریندرسہواگ کو بھی جب کچھ نہیں سوجھا توسوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر زہر اگل دیا ۔

وزیر اعظم عمران خان کا ایک ویڈیو کلپ اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ امریکی ٹی ویایم ایس این بی سیکے اینکر کو کہتے ہیں کہجب آپ افغانستان کی جنگ میں 1.5ٹریلین ڈالرز جھونک رہے تھے تب چین عالمی میعار کا انفراسٹرکچر بنا رہا تھا ،میں نے بھی عام آدمی کی طرح نیویارک کی خراب سڑکوں پر جھٹکے کھائے ہیں،ان کے جواب پرامریکی اینکر قہقہہ لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ پاکستان کے وزیر اعظم سے زیادہ برونکس کےووٹرلگے رہے ہیں ۔

بھارت کے سابق کرکٹر وریندرسہواگ نے وزیراعظم عمران خان کی یواین میں تقریر پر غصہ نکالتے ہوئے کہا کہ یہ چینل کے اینکر نے اسے ویلڈر کہا ہے

امریکی چینل این بی سی کے صحافی نے وریندرسہواگ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ صاف سنائی دے رہا ہے کہ عمران خان کوووٹرکہا ہے۔اس کلپ کو عمران خان کے مخالف سوشل میڈیا صارفین اور بھارتی شیئر کررہے ہیں اور دعویٰ کررہے ہیں کہ امریکی چینل کے اینکر نے وزیراعظمعمران خان کوویلڈرکہا ہے جبکہ تحریک انصاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اینکر نےویلڈرنہیںووٹرکہا ہے۔

امریکیوں کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کوویلڈرنہیںووٹرکہا ہے۔سہواگ کو امریکی اور بھارتی بھی سمجھاتے رہے کہ اینکر نےووٹرکہا ہےویلڈرنہیں، پاکستانیوں نے سہواگ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی کہا ہے کم از کم تمہارے چائے والے وزیراعظم سے تو بہتر ہے۔

پاکستان میں یہی حکومت رہے گی، وزیراعظم کیساتھ ہماری پوری سپورٹ ہے، آرمی چیف کا واضح اعلان

پاکستان میں یہی حکومت رہے گی، وزیراعظم کیساتھ ہماری پوری سپورٹ ہے

ملک کی کاروباری کمیونٹی بھی وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہو، ان کی حمایت اور مدد کرے: آرمی چیف کا پیغام

 آرمی چیف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہی حکومت رہے گی، وزیراعظم کیساتھ ہماری پوری سپورٹ ہے، ملک کی کاروباری کمیونٹی بھی وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہو، ان کی حمایت اور مدد کرے۔ تفصیلات کے مطابق ایپٹما کے سربراہ گوہر اعجاز نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے جمعرات کے روز کاروباری شخصیات کی آرمی چیف سے ملاقات کا احوال بیان کیا۔

گوہر اعجاز نے بتایا ہے کہ آرمی چیف نے کاروباری کمیونٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں یہی حکومت رہے گی۔ کاروباری کمیونٹی نے موجودہ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے سوال کیا جس پر آرمی چیف نے درخواست کی کہ آپ لوگ موجودہ وزیراعظم کیساتھ کھڑے ہوں، ملکی معیشت کی بہتری کیلئے ان کی حمایت اور مدد کریں۔

جواب میں کاروباری شخصیات نے آرمی چیف کو یقین دہانی کروائی کہ ملکی معیشت میں بہتری لانے کیلئے وہ موجودہ حکومت کیساتھ کھڑے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی زیر میزبانی میں آرمی آڈیٹوریم میں معیشت اور سیکیورٹی کے باہمی اثر و نفوذ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں حکومت کی معاشی ٹیم اور ملک کے تاجروں نے شرکت کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیمینار کے انعقاد کا مقصد ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تجاویز تیار کرنا تھا۔سیمینار سے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا تعلق معیشت سے ہے اور ملک میں داخلی سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے اقتصادی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان مباحثوں کا مقصد تمام فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر مہیا کر نا ہے جبکہ پلیٹ فارم کی تجاویز سے مربوط حکمت عملی وضح کرنے میں مدد ملے گی ۔آئی ایس پی آرکے مطابق حکومت کی اقتصادی ٹیم نے تاجروں کو کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ حکومتی ٹیم نے کہا کہ قومی معیشت میں استحکام کی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج آرہے ہیں۔ آئی ایس پی آرکے مطابق تاجروں نےکاروبار ی ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لئے تجاویز شیئرکیں۔ تاجروں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سے اصلاحات کے نفاذ میں تعاون کریں گے، ٹیکس ادا اور سرمایہ کاری کرکے اپنا کردار ادا کریں گے۔

دہائیوں کا انتظار ختم ہوا، گوادر پورٹ کو تجارتی راہداری کے لیے مکمل طور پر فعال کر دیا گیا، پہلا جہاز کب لنگر انداز ہوگا؟ اعلان کر دیا گیا

گوادر پورٹ کو تجارتی راہداری کے لیے کھول دیا ،سینیٹر کہدہ بابر

پہلا جہاز آئندہ ہفتے پہنچے گا، بڑی کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ اس طرح کی سہولیات پر مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنے کیلئے قرارداد منظور کی جائے،سینیٹر وبی اے پی رہنما کی گفتگو

 بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء وسینیٹر کہدہ بابر نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کو تجارتی راہداری (ٹرانزٹ ٹریڈ)کے لیے کھول دیا گیا اور اس سلسلے میں پہلا جہاز آئندہ ہفتے پہنچے گا بڑی کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ اس طرح کی سہولیات پر مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنے کیلئے قرارداد منظور کی جائے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ماہی گیری کے ٹرالروں سے متعلق ایک قومی سطح کی پالیسی بنانا ہوگی اور تمام صوبوں کے لیے ایک یکساں طریقہ کار وضع کرنا ہوگا کیونکہ سمندری ماہی گیری سندھ سمیت بلوچستان کے ساحل سے دور کی جاتی ہے رپورٹ کے مطابق وزارت سمندری امور کے حکام نے ذیلی کمیٹی کو ٹرانزٹ ٹریڈ اور ٹرانشپمنٹ کے بارے میں بتایا کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی)ماڈیول میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت تھی، جسے کیا گیا اور ابتدائی طور پر ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ اطلاق کے لیے تیار ہے سینیٹ کمٹی کو بتایا گیا کہ پہلا اے ٹی ٹی شپمنٹ آئندہ ہفتے 8 اکتوبر کو گوادر پورٹ پر آئے گا، جس میں بتدریج اضافہ ہوگا اس موقع پرگوادر سے تعلق رکھنے والے ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر کہدہ بابر نے علاقے کی ترقی اور منصوبہ بندی میں موجود خلا کی طرف اشارہ کیا۔

جس پر حکام نے اس بات کو تسلیم کیا کہ گوادربندرگاہ کی اصل حریف سنگاپور اور دبئی کی بندرگاہیں ہوں گی کیونکہ کارگو میں تاخیر کے چارجز نہ ہونے اور 3 ماہ کی اسٹوریج کی سہولت جیسی مراعات یقینی طور پر کاروبار کو گوادر کی طرف موڑ دے گا۔ذیلی کمیٹی کی جانب سے بندرگاہ کے اندر یا باہر فش پروسیسنگ کے لیے اسٹوریج کی سہولیات سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ساتھ ہی کمیٹی کو یقین دہانی کروائی گئی کہ اس طرح کی سہولیات فراہم کرنے اور اس سلسلے میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔

اس دوران ذیلی کمیٹی نے چینی کمپنیوں سمیت مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو گوادر بندرگاہ پر فش ڈمپنگ اور ری پروسیسنگ سہولیات فراہم کرنے سے متعلق قانونی فریم ورک، قواعد و ضوابط پر تبادلہ خیال کیا۔سینیٹر کہدہ بابر کا کہنا تھا کہ بڑی کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ اس طرح کی سہولیات پر مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرنے کیلئے قرارداد منظور کی جائے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ماہی گیری کے ٹرالروں سے متعلق ایک قومی سطح کی پالیسی بنانا ہوگی اور تمام صوبوں کے لیے ایک یکساں طریقہ کار وضع کرنا ہوگا کیونکہ سمندری ماہی گیری سندھ سمیت بلوچستان کے ساحل سے دور کی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

وزیراعظم نے امریکا میں سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اے اکرم کو دوبارہ عہدے پر فائز کرنے کی منظوری دے دی

 اقوام متحدہ میںپاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، وزیراعظم نے امریکا میں سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اے اکرم کو دوبارہ عہدے پر فائز کرنے کی منظوری دے دی

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں تعیناتپاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اے اکرم کواقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مندوب تعینات کر دیا ہے۔ منیر اے اکرم ماضی میں امریکا میں پاکستان کا سفیر رہ چکے ہیں۔ جبکہ منیر اے اکرماقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے عہدے پر بھی براجمان رہ چکے ہیں۔ اب وزیراعظم نے انہیں دوبارہ یہی عہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔