خواجہ آصف نے نواز شریف کے واپس آںے کی گارنٹی دے دی مسلم لیگ ن کے ایم این ایز اور ورکرز ضامن ہیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے۔ خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہما خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا ہے کہ نواز شریف خاندان کے دباؤ پر بیرون ملک جانے پر راضی ہوئے۔نواز شریف ملک سے باہر نہیں جانا چاہتے تھے عدالتوں نے انہیں ریلیف دیا۔یہ اقتدار کل ہمارے پاس تھا۔اقتدار میں آکر سب بھول جاتے ہیں۔موجودہ حکمرانوں میں بدلے کی آگ بھڑک رہی ہے۔

ہم نے اپنے دور میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کا احترام کیا۔۔فخر ہےنواز شریف کا کارکن ہوں۔ نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دیں میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں وہ واپس آئے گا ۔نواز شریف موت وحیات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اس صورتحال میں بھی نواز شریف "ووٹ کو عزت دوکی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم ضمانت دیتے ہیں نواز شریف واپس آئیں گے۔

پاکستان کے کروڑوں عوام نواز شریف کے ضامن ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ایم این ایز اور ورکرز ضامن ہیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف باہر نہیں جانا چاہتے تھے جب وہ باہر جانے پر تیار ہوئے تو حکومت نے کھیلنا شرور کر دیا۔فروغ نسیم کے بیان نواز شریف اور پرویز مشرف کے لیے مختلف ہیں۔سرکاری ڈاکٹروں نے خود کہا کہ نواز شریف علاج کے لیے باہر جائیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ کوئی تو انصاف کی بات کریں۔

نواز شریف کی صحت کو شطرنج کا مہرہ نہ بنائیں۔وزارت عظمیٰ کا عہدہ رکھنے والے کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی۔بڑے عہدے پر بڑی باتیں کی جاتی ہیں،چھوٹی نہیں۔الیکشن سب لڑتے ہیں لیکن دشمن تو نہیں بن جاتے۔خیال رہے کہ  حکومت کی جانب سے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیے جانے کے بعد اس حوالے سے وزارت داخلہ نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق نواز شریف کو علاج کیلئے 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت ہوگی۔ تاہمنواز شریف گارنٹی کے طور پر رقم جمع کروائے بنا بیرون ملک نہیں جا سکتے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفیکیشن میں سابق وزیر اعظم کو ہدایت کی گئی ہے کہ 80لاکھ پاونڈ،2کروڑ50لاکھ امریکی ڈالریا اس کے مساوی روپے جمع کروا کر بیرون ملک چلے جائیں۔ تاہم انہیں 4 ہفتے بعد پاکستان واپس آنا ہوگا۔

بریکنگ نیوز! نواز شریف نے پلی بارگین کی آپشن استعمال کر لی؟ قومی خزانے میں کتنے ڈالرز جمع کروا دیے؟

نواز شریف نے پلی بارگین کی آپشن استعمال کر کے قومی خزانے میں پیسے جمع کروا دیے؟

حکومت کی معاشی ٹیم کی پریس کانفرنس میں قومی خزانے میں 40 ملین ڈالرز کے اچانک اضافے سے متعلق سوال، وزراء نے جواب دینے سے گریز کیا

 نواز شریف نے پلی بارگین کی آپشن استعمال کر کے قومی خزانے میں پیسے جمع کروا دیے؟، حکومت کی معاشی ٹیم کی پریس کانفرنس میں قومی خزانے میں 40 ملین ڈالرز کے اچانک اضافے سے متعلق سوال، وزراء نے جواب دینے سے گریز کیا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی ٹیم کی جانب سے پیر کے روز خصوصی پریس کانفرنس کی گئی جس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا گزشتہ کچھ ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں معنی خیز اضافہ ہوا ہے۔

اس پریس کانفرنس کے دوران مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور وفاقی وزیر حماد اظہر سے ایک سوال کیا گیا جس کا جواب نہ دے کر انہوں نے ایک نئی بحث چھڑوا دی۔ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزراء سے سوال کیا گیا ہے کہ قومی خزانے میں اچانک 40 کروڑ ڈالرز سے زائد کا جو اضافہ ہوا ہے، یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے؟ 400ملین ڈالرز کہاں سے آئے، حفیظ شیخ اور حماد اظہر یہ سوال ٹال گئے اور کوئی جواب نہ دیا۔

دونوں حکومتی شخصیات کے اس عمل کے بعد سوشل میڈیا پر بحث ہو رہی ہے کہ کہیں یہ پیسہ کسی سیاسی شخصیت خاص کر نواز شریف نے تو نہیں دیا؟ ان دنوں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ خاص کر یہ خبر سب سے زیادہ گردش کر رہی ہے کہ نواز شریف کی رہائی اور بیرون ملک روانگی کی تیاریاں دراصل کسی ڈیل کا نتیجہ ہیں۔ اس حوالے سے نیب نے بھی واضح پیغام دیا ہے کہ اگر نواز شریف بیرون ملک جانا چاہتے ہیں کہ پلی بارگین کی سہولت استعمال کریں اور باہر چلے جائیں۔

جبکہ اب جس انداز میں حفیظ شیخ اور حماد اظہر نے قومی خزانے میں 40 کروڑ ڈالرز اضافے سے متعلق سوال کو گول کیا ہے، اس سے ان باتوں کو تقویت مل رہی ہے کہ ممکنہ طور پر نواز شریف نے بیرون ملک روانہ ہونے کیلئے پلی بارگین کی آپشن استعمال کر لی ہے۔ 

شہریت منسوخ کیے جانے پر حافظ حمداللہ کا رد عمل بھی آ گیا،ایجنسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

شہریت منسوخ کیے جانے پر حافظ حمداللہ نے ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے

جب ایک شخص سینیٹر رہا ہو، وزیر رہا ہو اور پاکستان میں بار بار الیکشن لڑ چکا ہو، کیا ہماری ایجنسیوں اور اداروں نے اس کی شہریت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی؟

 شہریت منسوخ کیے جانے پر حافظ حمداللہ نے ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق سینیٹر اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ کو غیر ملکی شہری قرار دے دیا گیا تھا۔نادرا نے حافظ حمد اللہ کو افغان باشندہ قرار دے کر شناختی کارڈ کینسل کر دیا۔نادرا کا کہنا ہے کہ حافظ حمد اللہ پاکستانی شہری نہیں ہیں۔

نادرا نے حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ کینسل کر دیا اور نادرا کے مراسلے پر پیمرا نے حافظ حمد اللہ کی ٹی وی کوریج پر پاپبدی لگا دی گئی۔اب اس حوالے سے حافظ حمداللہ کا ردِعمل سامنے آیا ہے جس کے میں انہوں نے ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے، انہوں نے ٹویٹر پہ جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ جب ایک شخص سینیٹر رہا ہو، وزیر رہا ہو اور پاکستان میں بار بار الیکشن لڑ چکا ہو،

کیا ہماری ایجنسیوں اور اداروں نے اس کی شہریت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی؟ انہوں نے مزید کہا کہ کہ جب میں نے اکتوبر 2002 میں پرویز مشرف کے دور میں الیکشن لڑا تو اس وقت ایجنسیاں بہت زیادہ متحرک تھیں کیونکہ 2001 میں نائن الیون کا واقعہ ہوا تھا اور ایک سال بعد الیکشن ہو رہے تھے۔

حافظ حمد اللہ نے بتایا کہ انکی پیدائش چمن کے میونسپل علاقے کے محلے حاجی حسن کی ہے، آج بھی وہ محلہ موجود ہے اور آج بھی وہ جگہ موجود ہے جہاں انکی پیدائش ہوئی تھی، چمن کے سارے لوگ انہیں جانتے ہیں۔سابق سینیٹر نے فیصلے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے نادرا کے فیصلے کی روشنی میں مجھے غیر ملکی قرار دیتے ہوئے میرے ٹی وی ٹاک شوز پر پابندی عائد کی۔ 

#HafizHamdullah exclusive interview after cancelled his identity. He says I’ve been Minister, senator and I’ve contested election many times even in 2002 at @P_Musharraf’s time that time Our agencies actived because of 9/11. Did our agencies don’t verify regard my citizenry.

پیارے بچوں۔۔ یہ قوم آپ سے شرمندہ ہے

سانحہ ساہیول! پیارے بچوں یہ قوم آپ سے شرمندہ ہے

معصوم بچوں کے والدین کو قتل کرنے والے ملزمان بری،والدین کا خون کس کے ہاتھوں پر تلاش کریں؟۔۔۔سوشل میڈیا پر عمران خان کا سانحہ ساہیوال کے ذمہ داران کو عبرتناک سزا دینے کا پرانا بیان وائرل

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ساہیوال مقدمے میں نامزد تمام 6 ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیاہے.جب بھی ظلم کی انتہا کی بات آئے گی تو سانحہ ساہیوال لوگوں کے ذہنوں میں ضرور آئے گا۔یہ وہ سانحہ ہے جس میں معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کر دیا گیا تھا،آج ان ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا گیا ہے جس کا سوشل میڈیا پر سخت ردِعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔

صارفین نے وزیراعظم عمران خان کا ان کا پرانا بیان یاد دلا دیا ہے۔جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ ساہیوال واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ بالکل جائز اور قابلِ فہم ہے۔ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ قطر سے واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا۔

ایک صارف نے کہا کہ اس تصویر نے میرا دل توڑ دیا ہے۔

ایک صارف نے تو وزیراعظم عمران خان کو بزدل قرار دے دیا ہے۔

ایک صارف نے اس واقعے کی تصویر کہانی پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہعمران خان ہم یہ واقعہ کبھی نہیں بھولیں گے۔

ایک صارف نے کہا کہ ہاں عمران خان اس ملزمان کو رہا کر کے مثالی سزا دے رہے ہیں۔صارف نے کہا کہ کیا یہ ہے عمران خان کی مدینہ کی ریاست ؟۔

ایک صارف نے کہا کہ پیارے بچوں یہ قوم آپ سے شرمندہ ہے۔

اس کے علاوہ بھی کئی صارفین نے اس حوالے سے غم و غصے کا اظہار کیا۔صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کیا گیا ہے تو یہ معصوم بچے اپنے والدین کا خون کے ہاتھ پر تلاش کرے۔

نواز شریف کو خون کی 5بوتلیں نیب اہلکاروں نے عطیہ کیں

نواز شریف کو خون نیب کے 5 بندوں نے دیا: سینئیر صحافی کا دعویٰ

نیب کے 5 بندوں نے آج میاں صاحب کو پانچ بوتلیں O پازیٹو خون دیا: ارشاد بھٹی

 سینئیر صحافی ارشاد بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کو خون نیب کے 5 بندوں نے دیا۔ ارشاد بھٹی نے بتایا ہے کہ نیب کے 5 بندوں نے آج میاں صاحب کو پانچ بوتلیں O پازیٹو خون دیا۔ تفصیلات کے مطابق احسن اقبال نے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ ’’انسانیت کا تقاضہ ہے کہ مریم نواز کو عدالت سے واپسی پر والد سے ملنے کی اجازت دی جائے‘‘۔

 

 اس کے جواب میں سینئیر صحافی نے کہا کہ ’’انسانیت کا تقاضہ پورا ہوا اورمریم نواز کو میڈیکل گراؤنڈ پر کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال لایا گیا، ہسپتال میں میاں صاحب کے بالکل ساتھ والا کمرہ مریم نواز کیلئے تیار ہو چکا اور یہ بھی سن لیں آپکے ظالم نیب کے 5 بندے آج میاں صاحب کو پانچ بوتل O پازیٹو خون دے کر جا چکے ہیں‘‘۔

 انہوں نے دوسرے ٹویٹ میں کہا کہ ’’یہ بھی سن لیں کہ ظالم عمران خان کی ہدائیت پرظالم پنجاب حکومت کراچی سےخون سپیشلسٹ ڈاکٹر طاہر شمسی کو منگوا چکی ہے، ڈاکٹرشمسی نوازشریف کوچیک کر کےاس وقت سروسز ہسپتال میں میاں صاحب کےساتھ والےکمرے میں بیٹھےمیاں صاحب کی رپورٹس چیک کررہے ہیں۔ ہوسکےتوحکومت کاشکریہ اداکردیں۔ ویسےتوقع تو نہیں ہے‘‘۔

انہون نے بتایا کہ نواز شریف کو خون نیب کے بندوں نے دیا جبکہ اس سے قبل کہا جارہا تھا کہ نواز شریف کو خون نجی کالج کے طلباء نے دیا تھا۔ ۔نواز شریف کی پلیٹ لٹس کے حوالے سے حالت تسلی بخش نہیں تھی۔گذشتہ روز انہیں پلیٹ لٹس کے دو میگا کٹس لگائی گئی ۔

حریم شاہ کو گرفتار کیے جانے کا امکان

حریم شاہ کو گرفتار کیے جانے کا امکان 

ڈپٹی کمشنرچارسدہ کی کرسی پربیٹھنے والے شخص کو اسی وقت گرفتارکیا گیا تو حریم شاہ کو کیوں نہیں گرفتار کیا جا رہا؟۔ صارفین نے سوشل میڈیا پر سوال اُٹھا دیا

:ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کو وزارت خارجہ میں ویڈیوز بنانے پر قانونی کاروائی کرتے ہوئے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹک ٹک سٹار حریم فاروقی کی وزارت خارجہ میں بنائی گئی ویڈیو نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک ماڈل اور حکومتی شخصیات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے،صارفین کا کہنا ہے کہ ماڈلز کی اہم سرکاری اداروں تک رسائی ناقابلِ برداشت ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے نہ صرف ٹک ٹاک سٹار کو وزارت خارجہ تک رسائی دینے والے افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے بلکہ صارفین نے حریم شاہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا بھی کہا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ حریم شاہ کی گرفتاری سے سب کو پیغام ملے گا کہ اہم سیاسی اداروں کو کوئی بھی شخص تفریحی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔

اس حوالے سے ایک صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنرچارسدہ کی کرسی پربیٹھنے والے شخص کو اسی وقت گرفتارکرکے جیل میں ڈالاگیااورمقدمہ درج کیاگیا. آج حریم شاہ نے وزارت خارجہ کے دفترکے حساس ترین کمرے میں ٹک ٹاک وڈیو بنائی.اب دیکھنا یہ ہے کہ قانون کا ڈبل سٹینڈرڈ عوام کا منہ کب تک چڑاتا رہے گا۔

ایک صارف نے کہا کہ حریم شاہ کو اپنے خاص لوگوں کے ہمراہ گرفتار کرنا چاہئیے اور یہاں پر دوبارہ داخلے پر پابندی لگانی چاہئیے۔ایک غیر سنجیدہ لڑکی حکومتی املاک کا مذاق اڑا رہی ہے۔

ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی ویڈیو کا معاملہ ،وزیراعظم آفس کا سخت نوٹس ماڈل گرل کے ایک اقدام نے وزارت خارجہ کے افسران کی دوڑیں لگوا دیں

ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی ویڈیو کا معاملہ ،وزیراعظم آفس کا سخت نوٹس

ماڈل گرل کے ایک اقدام نے وزارت خارجہ کے افسران کی دوڑیں لگوا دیں

وزیراعظم آفس کا وزارت خارجہ میں ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ویڈیو بنانے کا نوٹس

ویڈیو وزیراعظم آفس میں نہیں بلکہ وزات خارجہ کے کانفرس ہال میں بنائی گئی۔ وزیراعظم آفس کے نوٹس لینے کے بعد وزارت خارجہ کے افسران کی دوڑیں لگ گئیں

 ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کی وزیر اعظم آفس میں ویڈیوز کی حقیقت سامنے آ گئی۔تفصلات کے مطابق آج ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کی ایک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ ماڈل اس ویڈیو میں وزیراعظم آفس کے اندر موجود ہیں۔تاہم اب کہانی کچھ اور ہی نکلی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ جس کانفرنس ہال میں موجود ہیں اس کا وزیراعظم ہاؤس یا آفس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بلکہ یہ کانفرنس ہال وزات خارجہ کا ہے جس کو غلط انداز میں پیش کر کےوزیراعظم آفس سے منسوب کیا گیا۔حریم شاہ کی وزات خارجہ کے کانفرس ہال میں بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیراعظم آفس نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے،وزیراعظم آفس کے نوٹس لینے کے بعد وزارت خارجہ کے افسران کی دوڑیں لگ گئیں ہیں۔

حریم شاہ کو وزارت خارجہ کے اہم کمیٹی روم تک رسائی کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حریم شاہ بوڑد روم میں صدارتی چئیر پر بیٹھی ہوئی ہیں۔خیال رہے کہ معروف ماڈل حریم شاہ کچھ عرصہ قبل اس وقت میڈیا کی خبروں کی زینت بنی تھیں جب سینئیر صحافی مبشر لقمان نے ماڈل حریم شاہ اور ان کی دوست پر اپنے ہیلی کاپٹر پر کچھ سامان چوری کرنے کا الزام لگایا،مذکورہ ماڈلز کی تصاویر ہمیں دیگر معروف سیاستدانوں کے ساتھ بھی نظر آتی ہیں۔تاہم حریم شاہ آج وزارت خارجہ کے کانفرنس روم میں بنائی گئی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں۔سوشل میڈیا پر حریم شاہ کی اس ویڈیو پر سخت ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی یہ ویڈیو آپ بھی ملاحظہ کجئیے

امریکی اخبار نے خطے میں رجب طیب ایردوان کے عزائم سے خبردار کردیا ترکی کے صدر شام (پر قبضی) سے بھی آگے جانے کی خواہش رکھتے ہیں وہ خفیہ طور پر ایٹم بم حاصل کرنا چاہتے ہیں ،خفیہ پروگرام خطے کے استحکام کیلئے خطرہ ہے ، نیویارک ٹائمز

امریکی اخبار نے خطے میں رجب طیب ایردوان کے عزائم سے خبردار کردیا

ترکی کے صدر شام (پر قبضی) سے بھی آگے جانے کی خواہش رکھتے ہیں وہ خفیہ طور پر ایٹم بم حاصل کرنا چاہتے ہیں ،خفیہ پروگرام خطے کے استحکام کیلئے خطرہ ہے ، نیویارک ٹائمز

 امریکی اخبارنیویارک ٹائمز نے خطے میں رجب طیب ایردوآن کے عزائم سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے صدر شام (پر قبضی) سے بھی آگے جانے کی خواہش رکھتے ہیں ،،، وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اخبار کے مطابق اس حوالے سے ایردوآن کے پاس ایک خفیہ پروگرام ہے جو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

نیویارک ٹا ئمز کا کہنا ہے کہ امریکا اس حوالے سے حقیقی خدشات رکھتا ہے کہ ترکی میں انجرلیک کے فوجی اڈے میں امریکی بم موجود ہیں۔اخبار کے مطابق شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن سے قبل ستمبر میں ایردوآن نے اپنی حکمراں جماعت کے ایک اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ "بعض ممالک کے پاس نیوکلیئر وار ہیڈز کے حامل میزائل ہیں مگر مغرب کا یہ اصرار ہے کہ ہم یہ حاصل نہیں کر سکتے ، میں یہ بات قبول نہیں کر سکتا"۔

اخبار نے ایردوآن کی دھمکی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ جب امریکا ترک سربراہ کو شام کی اراضی میںواشنگٹن کے کرد حلیفوں پر حملے سے نہیں روک سکا تو پھر وہ ترکی کو جوہری ہتھیار تیار کرنے اور متعلقہ ٹکنالوجی حاصل کرنے کے حوالے سے ایران کے نقش قدم پر چلنے سے کیسے روک سکتا ہے امریکی اخبار نے باور کرایا ہے کہ ایردوآن زیادہ جدید جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی راہ پر گامزن ہیں تاہم ایران نے جتنا کچھ اکٹھا کر لیا ہے ، ترکی اس سے بہت پیچھے ہے۔

ترکی کے پاس واقعتا جوہری بم کا پروگرام، یورینیم کا ذخیرہ اور ریسرچ ری ایکٹرز ہیں۔ ان کے علاوہ وہ جوہری دنیا کے مشہور ترین نیٹ ورک اورپاکستان کے جوہری ہتھیار کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ پوشیدہ تعلقات بھی رکھتا ہے۔ترکی نے بجلی پیدا کرنے والا پہلا بڑا ری ایکٹرروس کی معاونت سے بنایا۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ ایردوآن نے یہ نہیں بتایا کہ وہ جوہری فٴْضلے کے ساتھ کس طرح نمٹیں گے جو کہ جوہری ہتھیاروں کے لیے ایندھن فراہم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کو جوہری ہتھیار کے حصول میں کئی سال لگ جائیں گے الّا یہ کہ ایردوآن کوئی ہتھیار خرید لیں۔اخبار کے مطابق جوہری معاملے میں ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ ترکی کی اراضی پر امریکا کے 50 کے قریب جوہری بم ذخیرہ ہیں۔ امریکا نے کبھی صراحتا ان کی موجودگی کا اعتراف نہیں کیا۔"۔

مولانا فضل الرحمان نے جو حاصل کرنا تھا وہ کر چکے ہیں،سینئر تجزیہ کار حسن نثار کا دعویٰ

مولانا فضل الرحمان پہلی بار فائٹرکے طور پر دکھائی دے رہے، حسن نثار

آزادی مارچ سے پہلے یہ مارچ کامیاب ہوچکا،انہوں نے جوحاصل کرنا تھا، وہ کرچکے ،خوف کا اتنا عالم ہے کہ ان کی صفوں میں بھگڈرمچی ہوئی ہے،بھاگے پھر رہے ہیں، اللہ کرے خیر ہو۔سینئر تجزیہ کار حسن نثارکا تبصرہ

سینئر تجزیہ کار حسن نثار نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پہلی بار فائٹرکے طور پر سامنے آرہے ہیں، آزادی مارچ سے پہلے یہ مارچ کامیاب ہوچکا ہے، انہوں نے جوحاصل کرنا تھا، وہ کرچکے ،خوف کا اتنا عالم ہے کہ ان کی صفوں میں بھگڈرمچی ہوئی ہے، بھاگے پھر رہے ہیں، اللہ کرے خیر ہو۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ سے پہلے یہ مارچ کامیاب ہوچکا ہے۔مارچ کے نتیجے میں جو انہوں نے حاصل کرنا تھا، وہ کرچکے ہیں،ٹانگیں ان کی کانپ رہی ہیں،کبھی کچھ کہتے ہیں توکبھی کچھ کہہ رہے ہیں، کہتے ہم ان کو نکلنے نہیں دیں گے۔ یوں بٹھائیں گے کہ کھڑا نہیں ہونے دیں گے۔ان کی باتوں میں عجیب تضاد ہے ملک کی بدنصیبی ہے کل تک جو کچھ ان کیلئے جائز تھا آج وہ مولانا فضل الرحمان کے ناجائز ہے۔

لیکن لوگ اندھے اور بہرے نہیں ہیں، یہ سارے تضادات یہ سارا کچھ ان کے اکاؤنٹس میں جا رہا ہے، ایک بات بتا دوں، ایک چیز دس چوٹوں پر ٹوٹتی ہے۔ہم کہتے ہیں دسویں چوٹ پر یہ چیز ٹوٹی ہے، ہم پہلی 9 چوٹوں کو بھول جاتے ہیں، میرے نزدیک مولانا فضل الرحمان نے جو چوٹ دی ہے،یہ اتنی شدید چوٹ ہے، وہ جو پوائنٹ اسکو رکرنا چاہ رہے تھے وہ ہوچکا ہے۔ جس کو یہ معمولی سمجھتے تھے ،خوف کا اتنا عالم ہے کہ ان کی صفوں میں اس طرح کی بھگڈرمچی ہوئی ہے، بھاگے پھر رہے ہیں، اللہ کرے خیر ہو۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پہلی بار مجھے ایک فائٹرکے طور پر سامنے آتے دکھائی دے رہے ہیں، باقی آئندہ چند دنوں میں پتا چل جائے گا۔دوسری جانب سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے جے یوآئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوال پر کہا کہ دھرنے کیلئے سعودی عرب یا کسی قسم کی بیرونی سپورٹ نہیں ہے۔ اندرونی حالات کچھ ایسے ہیں کہ مولانا سوچا کہ آزادی مارچ کیا جائے۔ کہیں سے ان کو گرین لائٹ بھی ملی ہے، ساری بحث یہ ہورہی ہے کہ ان کو گرین لائٹ کہاں سے آئی ہے؟ کیونکہ گرین لائٹ دینے والے تو سارے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر میں نے اس پر لکھا بھی ہے ، اب میں کچھ دہرانا نہیں چاہوں گا۔مولانا کو ضرورکہیں نہ کہیں سے کوئی اشارہ آیا ہے مگر سعودی عرب کا کوئی رول نہیں ہے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ دھرنا کامیاب ہوگایا نہیں ؟ میرے خیال سے دھرنے کا مقصد حکومت کو گرانا نہیں عمران خان کو ہٹانا ہے، حکومت رہتی ہے تو رہے،حکومت کو کمزورکرنا بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے مولانا فضل الرحمان کا مارچ کوئی زیادہ کامیاب نہیں ہوگا۔

ہمیں اپنے فوجیوں کی لاشیں اُٹھانے دو۔۔۔بھارتی فوج گھٹنوں کے بل آگئی ۔۔پاک فوج کے سامنے سفید جھنڈا لہرا دیا

بھارتی آرمی کو اپنے فوجیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے میں مشکلات کا سامنا

بھارتی فوج نے سفید جھنڈے لہرا دیا،بلا اشتعال فائرنگ کرنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا، بھارتی فوج کو اشتعال انگیزی کی بھاری قیمت چکانی ہو گی۔ ڈی جی آئی ایس پر آر

 کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کرنے کے بعد بھارتی فوج گھٹنوں کے بک آ گئی،اپنے فوجیوں کی لاشیں اٹھانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔زخمی شہریوں کو ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

یو این مبصر مشن،ملیی ،غیر ملکی میڈیا کو آزاد جموں کشمیر میں آزادانہ رسائی ہے۔یہ آزادی مقبوضہ کشمیر میں نہیں ہے۔بھارت کو سیز فائر خلاف ورزیوں کا ہمیشہ منہ توٹ جواب ملے گا۔پاک فوج ایل او سی پر معصوم شہریوں کی حفاظت جاری رکھے گی۔پاک فوج ایل او سی کی خلاف ورزی پربھارتی فوج کو ناقابل برداشت نقصان پہنچائے گی۔

سچ بتا کر جھوٹے بھارتی دعووں ،جعلی فلیگ آپریشن کی تیاریوں کے بے نقاب کرتے رہیں گے۔

ڈی جی آئی پی آر نے مزید بتایا کہ بھارتی فوج اپنے فوجیوں کی لاشیں اٹھانے اور زخمیوں کو لے جانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں انہیں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔بھارتی فوج نے سفید جھنڈے لہرا دیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پر آر نے کہا کہ بھارتی فوج کو بلا اشتعال فائرنگ کرنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا۔بھارتی فوج کو عسکری آداب کا احترام کرتے ہوئے شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہائیے تھا۔

انہوں نے کہا بھارتی فوج کو اشتعال انگیزی کی بھاری قیمت چکانی ہو گی۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک سپاہی جب کہ تین شہری شہید ہو گئے تھے۔بھارت نے جورا،شاہ کوٹ اور نوسیر سیکٹرز میں شہری آبادہ کو نشانہ بنایا۔کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ سے ایک سپاہی جام شہادت نوش کر گئے جب کہ فائرنگ کے نتیجے میں 3 شہری بھی شہید ہوئے۔بھارتی اشتعال انگیزی سےپاک فوج کے دو جوان جب کہ پانچ شہری بھی زخمی ہوئے۔ پاکستان نے بھی بھارتی فوج کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں 9بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔جوابی کاروائی میں بھارتی فوج کے دو بنکرز بھی تباہ ہوئے۔