بھارت کو رافیل طیارے حاصل کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، پاکستان نے اپنی تاریخ کا سب سے جدید ترین اور چوتھی جنریشن والا پہلا جنگی طیارہ تیار کر لیا

پاکستان نے اپنی تاریخ کا سب سے جدید ترین اور چوتھی جنریشن والا پہلا جنگی طیارہ تیار کر لیا

پاک فضائیہ نے جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی پہلی پرواز کا کامیاب تجربہ بھی کر لیا، طیاروں میں 2 پائلٹس کی گنجائش ہے

 پاکستان نے اپنی تاریخ کا سب سے جدید ترین اور چوتھی جنریشن والا پہلا جنگی طیارہ تیار کر لیا،پاک فضائیہ نے جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی پہلی پرواز کا کامیاب تجربہ بھی کر لیا، طیاروں میں 2 پائلٹس کی گنجائش ہے۔ تفصیلات کے مطابق عسکری ذرائع کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان نے بالآخر چوتھی جنریشن والے جنگی طیارے کو تیار کر لیا ہے۔

پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر کے بلاک 3 طیارے کو ناصرف مکمل کر لیا ہے، بلکہ اس کی کامیاب آزمائشی پرواز بھی کر لی گئی ہے۔ پاکستان نے رواں برس کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی تیاری رواں سال کے وسط سے شروع کی جائے گی۔ بتایا گیا تھا کہ جدید ترین ریڈار سے لیس جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 طیارہ باقاعدہ طور پر مارچ 2020 تک آپریشنل کر دیا جائے گا۔

پاک فضائیہ نے جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی باقاعدہ تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3، نئے ریڈار کیساتھ مارچ 2020ء تک آپریشنل ہوگا۔ مزید 3 جے ایف 17 تھنڈر بلاک 2 طیارے جون میں پاک فضائیہ کے فلیٹ میں شامل ہوں گے اور یوں بلاک 2 طیاروں کی کھیپ مکمل ہو جائے گی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ 2 نشستوں والا جے ایف 17 تھنڈر بی طیارہ بھی مقامی سطح پر تیار کردہ ہے۔

جدید ترین آلات اور ریڈار سے لیس یہ لڑاکا جہاز عالمی منڈیوں میں موجود چوتھی جنریشن کے جنگی طیاروں کا ہم پلہ ہو گا۔ یہ طیارہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلکس کامرہ میں ہی تیار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ فروری کے ماہ میںپاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کے بعد سےپاکستان اور چین کے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ جے ایف 17 تھنڈر نے بھارت کے 2 جنگی طیارے مار گرائے تھے، جس کے بعد سے کئی ممالک نے اس طیارے کو خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

قومی خزانے میں 38 کھرب روپے کی واپسی، وزیراعظم ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کرنے میں کامیاب ہوگئے

جلد 38 سو ارب روپے کی ریکوری ہونے والی ہے

کرپشن کا پیسہ واپس حاصل کرنے کا عمل شروع ہو چکا، 38 ارب روپے واپس حاصل کر لیے گئے ہیں: سینئر صحافی کا دعویٰ

 سینئر صحافی چوہدری غلام حسین کا دعویٰ ہے کہ جلد 38 سو ارب روپے کی ریکوری ہونے والی ہے، کرپشن کا پیسہ واپس حاصل کرنے کا عمل شروع ہو چکا، 38 ارب روپے واپس حاصل کر لیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار چوہدری غلام حسین کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے تہلکہ خیز دعویٰ کیا گیا ہے۔

چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ کرپشن کر کے ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس حاصل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو کروڑوں پاونڈز واپس کرنے کا اعلان حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ حکومت نے 38 ارب روپے کی بڑی ریکوری کی ہے۔

جبکہ آنے والے دنوں میں اب 38 سو ارب روپے بھی واپس آنے والے ہیں۔

اس سلسلے میں خاموشی سے کام کیا جا رہا ہے۔ کرپشن کرنے والے نہیں بچیں گے ان سب کو ملک کا پیسہ واپس کرنا ہوگا۔ چوہدری غلام حسین کا مزید کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا۔ اب بہت سے لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ نواز شریف کو رعایت دے کر غلطی کی گئی ہے۔ ایک جانب نواز شریف کو مجرم ہوتے ہوئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی، تو دوسری جانب سابق صدر پرویز مشرف جو کے حقیقت میں بہت زیادہ بیمار ہیں، ان کا بیرون ملک بیان ریکارڈ نہیں کیا جا رہا ہے۔ 

لندن میں قیام طویل۔۔نواز شریف نے اہم فیصلہ کرلیا

طبی وجوہات پر نواز شریف کا بیرون ملک قیام میں توسیع کا فیصلہ

نواشریف کے معائنے اور ٹیسٹ میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں،برطانوی ڈاکٹرز

طبی وجوہات پرنواز شریف نے بیرون ملک قیام میں توسیع کا فیصلہ کرلیا ۔نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے طبی وجوہات پر بیرون ملک قیام میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، نوازشریف چار ہفتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ملک واپس نہیں آئیں گے۔برطانوی ڈاکٹرز نے کے مطابقنوازشریف کے طبی معائنے اور ٹیسٹ مکمل ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے طبی بنیادوں پر کیس کی تیاری کیلئے اپنے وکلاء کو ہدایت کردی ہے۔طبی صورتحال کی دستاویزات حکومت کیساتھ ہائیکورٹ میں بھی جمع کرائی جائیں گی۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو طبی بنیادوں پر علاج کیلئے چار ہفتوں کی مدت دی گئی تھی جو 17 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔

یادرہے لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے غیر مشروط طور پر چار ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

فاضل عدالت نے وفاقی حکومت کی ساڑھے 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائیکورٹ نے ضمانت دی تھی تو اس شرط کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے حکم میں کہا تھا کہنواز شریف علاج کی خاطر چار ہفتوں کیلئے ملک سے باہر جاسکتے ہیں اورعلاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے۔

تاہم اب برطانوی ڈاکٹرز کی ہدایت پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے لندن قیام میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے طبی معائنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔    

جنرل باجوہ کو دوبارہ آرمی چیف بنانے کیلئے حکومت کے پاس صرف 1 ہی آپشن رہ گیا

جنرل باجوہ جمعرات کی رات 12بجے تک بہر صورت آرمی چیف ہیں

اس دوران کیا ہو سکتا ہے؟ سینئیر صحافی نے بتا دیا

 سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا ہےاس حوالے سینئیر تجزئہ نگاروں کے تبصرے آنے کا سلسلہ جاری ہے،سینئیر صحافی کامران خان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ جمعرات کی رات بارہ بجے تک بہر صورت آرمی چیف ہیں سپریم کورٹ کی سماعت کل ممکنہ طور پر جمعرات کو بھی ہوگی اس دوران عمران خان کو سپریم کورٹ کی تسلی کرانی ہے ایکسٹینشن کے کیس کو قانونی پیچیدگیوں ضوابط کی خلاف ورزیوں سے پاک کرنا ہے۔

یقینا عدالت ملک میں افراتفری نہیں چاہتی۔

خیال رہے آج سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی،درخواست گزار نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔

عدالت نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس واپس لینے کے لیے ہاتھ سے لکھی درخواست کے ساتھ کوئی بیان حلفی نہیں۔

معلوم نہیں مقدمہ آزادانہ طور پر واپس لیا جا رہا ہے یا نہیں۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 29نومبر کو آرمی چیف ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ان کی مدتملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن صدرِ مملکت کی منظور کے بعد جاری ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا صدر کی منظوری اور نوٹیفیکیشن دکھائیں۔اٹارنی جنرل نے دستاویزات اور وزیراعظم کی صدر کو سفارش عدالت میں پیش کی۔

چیف جسٹس نے کہا وزیراعظم کو آرمی چیف تعینات کرنے کا اختیار نہیں۔آرمی چیف تعینات کرنے کا اختیار صدر کا ہے۔یہ کیا ہوا پہلے وزیراعظم نے توسیع کا لیٹر جاری کر دیا۔پھر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ توسیع آپ نہیں کر سکتے۔ ۔آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفیکیشن 19 اگست کا ہے۔19 اگست کو نوٹیفیکیشن ہوا ، وزیراعظم نے کیا 21 اگست کو منظور دی۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری چاہئیے تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی توسیع کی منظوری دی اور کیا کابینہ کی منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی؟۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا اختیار کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی توسیع کا اختیار وفاقی کابینہ کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکیورٹی کو تو صرف آرمی چیف نے نہیں بلکہ ساری فوج نے دیکھنا ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا کہ تقرری کرنے والی اتھارٹی توسیع کا اختیار رکھتی ہے۔ریٹائرمنٹ کی معطلی تو کچھ دیر کے لیے ہو گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریت نے توسیع پر کوئی رائے نہیں دی۔ 25 رکن میں سے صرف 11 نے توسیع کے حق میں رائے دی۔ 14 ارکان نے عدم دستیابی کے باعث کوئی رائے نہیں دی۔کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا؟۔

جمہوریت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا جنہوں نے رائے نہیں دی انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔چیف جسٹس نے کہا کابینہ ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے،کابینہ کے 14 ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پر ہاں نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

کیا آرمی چیف سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے؟ حکومت اور عدلیہ کے آمنے سامنے آنے کی وجہ کیا نکلی

گذشتہ دنوں چیف جسٹس نے ایک تقریر کی تھی جس کے بعد وزیراعظم نے ایک تقریر کی تھی

یہ معاملہ بہت حساس ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ آرمی چیف عدالت کے سامنے پیش ہوں گے یا نہیں؟ سینئیر صحافی عارف حمید بھٹی

: سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ میرے خیال میں یہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا پہلا سو موٹو ایکشن ہے، اس سے پہلے آصف سعید کھوسہ نے کبھی ایسا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹی فکیشن پر چیف جسٹس کی جانب سے اعتراض اُٹھایا جانا اہم حالات کی نشاندہی کر رہا ہے۔ لگ رہا ہے کہ پچھلے دنوں میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک تقریر کی تھی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نےا یک تقریر کی تھی، اس قسم کے حالات واضح ہو رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ عدالت نے فی الحال جو اعتراض اُٹھایا ہے وہ نوٹی فکیشن کے اجرا کے طریقہ کار پر لگایا ہے۔

انہوں نے ایک وجہ بتائی ہے کہ اگر آپ نے تین سال کی توسیع دی ہے تو آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تین سال تک ملک کے حالات بہتر نہیں رہ سکتے۔ عارف حمید بھٹی نے کہاکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اب کیا آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ عدالت کے سامنے جاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ عموماً کبھی آرمی چیف عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب عدالت یا حکومت اس معاملے پر کیا مؤقف اپناتی ہے ، کیونکہ بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ سپریم کورٹ نےآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کے طریقہ کار پر اعتراض اُٹھایا ہے۔

خیال رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹی فکیشن کی معطلی کے اس فیصلے پر جہاں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل تو ضرور ہوا لیکن اسے ایک دو دنوں میں ہی بحال بھی کر دیا جائے گا۔

بریکنگ نیوز! دہشت گردوں کا وار، بم دھماکہ، شہادتیں

ٹانک میں بم دھماکہ، 2 افراد شہید ہوگئے

خیبرپختونخواہ کے شہر میں دہشت گردوں کی جانب سے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا گیا، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات

 ٹانک میں بم دھماکہ، 2 افراد شہید ہوگئے، خیبرپختونخواہ کے شہر میں دہشت گردوں کی جانب سے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا گیا، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ کے شہر ٹانک میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹانک میں بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

پاکستان میں شیل گیس دریافت نہیں ہوئی آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی نے گیس دریافت ہونے سے متعلق وضاحت جاری کر دی

 پاکستان میں شیل گیس دریافت نہیں ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی نے پاکستان میں شیل گیس کی دریافت سے متعلق وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ شیل گیس کی دریافت کی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔ کمپنی نے شیل گیس دریافت کی کوئی بات نہیں کی اور تاحال شیل گیس کی کوئی ڈرلنگ نہیں کی گئی ۔

آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کمپنی مستقبل میں شیل گیس کی ڈرلنگ کا ارادہ رکھتی ہے اور شیل ڈرلنگ کے پائلٹ پراجیکٹ کی منصوبہ بندی بھی کررہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)پاکستان اور لندن اسٹاک ایکسچنج میں لسٹڈ ہے اس لیے قانونی اور ریگولیٹری تقاضوں کے تحت ایسی معلومات دینا کمپنی کی ذمہ داری ہے

بھارتی فورسز وزیر اعظم عمران خان کے کس عمل کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں؟ بھارتی پولیس کی غلط پریس ریلیز نے بھانڈا پھوڑ دیا

بھارتی فورسزکی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹس کی نگرانی کا انکشاف 

بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق ٹویٹس کی نگرانی کیلئے فہرست مرتب کررکھی ہے، اس لسٹ میں وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی، سینئرسیاستدانوں، صحافیوں سمیت سماجی نمائندے بھی شامل، بھارتی پولیس کی غلط پریس ریلیز نے بھانڈا پھوڑ دیا

 بھارتی سکیورٹی فورسزکی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹس کی نگرانی کا انکشاف ہوا ہے،بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے ایشوز سے متعلق پاکستانیوں کے ٹویٹس کی نگرانی کیلئے فہرست مرتب کررکھی ہے، اس لسٹ میں وزیراعظم عمران خان،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی،سینئرسیاستدانوں، صحافیوں سمیت سماجی نمائندے بھی شامل ہیں۔

ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارتی پولیس کیجانب سے انڈین میڈیا کو جاری کردہ پریس ریلیز میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی فورسز اور سکیورٹی ادارے مقبوضہ کشمیر سے متعلق ہر ایشواور تمام حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتی فورسز صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی کشمیریوں پر ظلم وجبرکے پہاڑ نہیں توڑ رہیں بلکہ وہ کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ہر طرح کی آوازوں کی نگرانی بھی کررہے ہیں۔

بھارتی پولیس نے میڈیا کو ایک خبر بھجوائی جس کا مقصدمقبوضہ کشمیر کے حالات سے متعلق پروپیگنڈا اور تین منشیات فروشوں کی گرفتاری کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرنا تھا،لیکن بھارتی پولیس سے جلدی میں غلطی ہوگئی اور میڈیا کو وزیراعظم عمرا ن خان سمیت دیگر سیاستدانوں کے ٹویٹس والی وہ لسٹ جاری کردی جس پر وہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔لسٹ سے معلوم ہوا کہ انڈین پولیس وزیر اعظم پاکستان عمران خان کشمیرسے متعلق جو بھی ٹویٹ کررہے ہوتے ہیں،ان کی پوری طرح نگرانی کی جاتی ہے۔

بھارتی میڈیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز بھارت کے جموں وکشمیر ریاست میں پولیس نے تین منشیات فروشوں کی گرفتاری سے متعلق پریس ریلیز بھیجی۔ لیکن ای میل میں پریس ریلیز کی بجائے مائیکروسافٹ ورڈ کی ایک فائل اٹیچ تھی، جس کا منشیات فروشوں کی اسٹوری سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ اس 8 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق ٹویٹس کے اسکرین شاٹس شامل تھے، ان ٹویٹس میںمقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بھارت پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ان ٹویٹس کے اسکرین شاٹس میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، سینئر سیاستدانوں،صحافیوں سمیت سماجی نمائندے بھی شامل تھے۔ تاہم تھوڑی دیر بعد جب بھارتی پولیس کو اپنی غلطی کا احساس ہو اتو انہوں نے دوبارہ ایک پریس ریلیز جاری کی کہ یہ فائل غلطی سے بھیج دی گئی ہے ۔ لہذااس فائل کو نظر انداز کردیا جائے۔ واضح رہےبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے 5 اگست کے غیرقانونی اقدام اور یکطرفہ کارروائی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقیم معصوم کشمیریوں پر تاحالبھارتی فورسز کا ظلم وجبر جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں 100 دن سے زیادہ کرفیو کو ہوگئے ہیں۔کشمیر میں میڈیا مکمل طور بلیک آؤٹ ہے۔ لیکن اقوام متحدہ، امریکا سمیت عالمی انسانی حقوق کے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘کے ساتھ تعلقات , دشمن کیلئے جاسوسی کرنے والے برگیڈئیر (ر) راجہ رضوان کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

دشمن کیلئے جاسوسی کرنے والے برگیڈئر (ر) راجہ رضوان کو تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا

راجہ رضوان کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ تعلقات اور جاسوسی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر آج عمل درآمد ہوگیا

دشمن کیلئے جاسوسی کرنے والے برگیڈئر (ر) راجہ رضوان کو تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راجہ رضوان کو بھارتی خفیہ ایجنسیراکے ساتھ تعلقات اور جاسوسی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر آج عمل درآمد ہوگیا ہے۔ پاکستان ڈیفنس ڈاٹ پی کے ویب سائٹ کے مطابق برگیڈئر (ر) راجہ رضوان کی سزا پر آج عمل درآمد ہوگیا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے ملک سے غداری کرنے والے بریگیڈیئر(ر) راجہ رضوان کی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔غداری کی سزا پانے والے بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان کے حوالے سے روزنامہ پاکستان میں معلومات سامنے آئی تھیں کہ راجہ رضوان پاک فوج میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہا اوروہ 2014 میں پاک فوج سے ریٹائرہونے کے بعد اسلام آباد میں رہ رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق راجہ رضوان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی سکیورٹی ادارے اس پر نظر رکھے ہوئے تھے اورریٹائرمنٹ کے بعد میں بھی اس پر نظر رکھی گئی۔فوجی ذرائع نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ 2009 سے 2012 کے دوران رضوان اہم یورپی ممالک میں ملٹری اتاشی کی ذمہ داریاں نبھاتا رہا ہے اوراسی دوران اس کا رابطہ بھارتی خفیہ ایجنسیراسے ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ جرمنی اور آسٹریا میں تعیناتی کے دوران راجہ رضوان نے بھارت کو بھاری رقوم کے عوض ملکی راز بیچے البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج میں موجود تحقیقاتی ادارے کو اس بات کا علم ہوگیا تھا اسی لیے راجہ رضوان کی نگرانی مزید سخت کردی گئی۔

فوجی ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے راجہ رضوان کی جانب سے دشمن کو بیچے گئے رازوں کا پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا لیکن غلطی کی سزا اسے مل گئی ہے۔روزنامہ پاکستان کے مطابق 2014میں بریگیڈیئر راجہ رضوان پاک فوج سے ریٹائر ہوگیا تھا اور اسلام آباد میں رہ رہا تھا البتہ اس دوران اس کے خلاف کی جانے والی تحقیقات خاموشی سے جاری رہیں اور 10اکتوبر 2018کو جب وہ اپنے ڈرائیور وسیم اکبر کے ساتھ اپنے دوست کو ملنے کے لئے جارہا تھا تواسلام آباد کی جی10مارکیٹ کے قریب سے اسے تحویل میں لے لیا گیا۔

کئی روز تک واپس نہ پہنچنے پر اس کے بیٹے علی رضوان نے اپنے وکیل انعام الرحیم خواجہ کی مدد سے 23اکتوبرکواسلام آباد ہائی کورٹ میں اس حوالے سے درخواست دائر کی اوردرکواست میں موقف اپنایا گیاکہ نا معلوم افراد اس کے والد راجہ رضوان کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔علی رضوان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 10اکتوبر کی رات کو سادہ کپڑوں میں ملبوس3 افراد نے اس کے والد کو اغواکیا ہے اور اس کے بعد سے اس کے والد کاموبائل فون بند جارہا ہے۔

اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوئی اور15نومبر 2018کو وزارت دفاع کے ایک نمائندے نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ راجہ رضوان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کاروائی کی جارہی ہے اور اس کے ایک فوجی ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا مقدمہ کیا جائے گا۔اس کے بعدعدالت کی کاروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی تھی۔

اس کے بعد 30مئی 2019 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی راجہ رضوان کی سزائے موت کی توثیق کردی۔ذرائع مطابق راجہ رضوان پر پہلے سے ہی نظر رکھی گئی تھی تاہم تحقیقاتی ادارے ٹھوس شواہد ملنے تک مجرم پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتے تھے اورجیسے ہی ان کے تمام شکوک یقین میں بدلتے گئے اور اکتوبر 2018میں اسے حراست میں لے لیا اور آج انہیں ان کے جرم کی پاداش مین تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

غصے میں تھا، اندر کے غصے کو باہر نکالا، دوبارہ ایسی تقریر نہیں کروں گا

غصے میں تھا، اندر کے غصے کو باہر نکالا تھا، سوچا ہے دوبارہ ایسی تقریر نہیں کروں گا: وزیراعظم کی بلاول بھٹوسے متعلق اپنی تقریر پر رائے

کنٹینر سے میری ذات پر حملے کیے گئے، یہودی ایجنٹ بنایا گیا، سلیکٹڈ کہا گیا لیکن بحثیت وزیراعظم مجھے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی: تقریر کے حوالے سے سینئیر صحافی کے سوال پر وزیراعظم کا جواب

 وزیراعظم عمران خان نے بلاول بھٹوسے متعلق اپنی تقریر پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گصے میں تھے اور تقریر مین انہوں نے اپنا غصہ باہر نکالا لیکن اب انہوں نے سوچا ہے کہ دوبارہ وہ ایسی تقریر نہیں کریں گے۔ سینئیر صحافیارشاد بھٹی نے بتایا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم سے بلاول سے متعلق انکی تقریر بارے پوچھا تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ کنٹینر سے انکی ذات پر حملے کیے گئے، انہیں یہودی ایجنٹ بنایا گیا، انکے لیے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کیا گیا۔

تاہم وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہین احساس ہوا ہے کہ بحثیتوزیراعظم انہیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی اور اب وہ ایسی تقریر نہیں کریں گے۔

ارشاد بھتی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان مطمئن اور خوش تھے اور قہقہت لگا رہے تھے، وزیراعظم کسی بھی طرح پریشان نہیں لگے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے موٹروے کے افتتاح کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی نکل اتاری تھی، وزیراعظم نے بلاول بھٹو کے اس بیان کی نکل اتاری جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر کے سائنسدان بلاول کے اس بیان پر ہل کر رہ گئے ہیں۔ تاہم اب انہوں نے ایسا نہ کرنے کا سوچا ہے۔ ارشاد بھٹی نے مزید بتایا کہ انہوں نے جب وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا آپ کو بلاول سے متعلق وہ تقریر کرنی چاہیے تھی؟ اس پر عمران خان نے سوال کیا کہ بلاول کو سیاست کرتے کتنے دیر ہوگئی ہے؟ ایسے لوگ جن کی ایک صوبے میں حکومت ہو اور وہاں بجلی لگنے سے 30بندے مر جائیں وہ یہ کہے کہ ’’جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘ کیا یہ درست ہے؟۔ تاہم وزیراعظم نے کہا کہ اب وہ ایسی کوئی تقریر نہیں کریں گے۔